حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 524
حیات احمد ۵۲۴ جلد دوم حصہ سوم منشاء تھا کہ رسالہ جون ۱۸۸۷ء میں شائع ہو جائے اور اپنے ہی پریس میں چھپے لیکن سرمایہ کے لئے آپ نے قرضہ کی تحریک بعض دوستوں سے کی جن میں حضرت حکیم الامت بھی تھے چنانچہ آپ نے ان کو لکھا کہ میں یہ روپیہ لینا صرف قرضہ کے طور پر چاہتا ہوں کہ دوستوں پر تھوڑا تھوڑ ابار ہو۔جو سو روپیہ سے زیادہ نہ ہو۔سو اگر ایسا ہو سکے کہ بعض با اخلاص آدمی جو آپ کی نظر میں ہوں اس قرضہ کے دینے میں شریک ہو جائیں تو بہت آسانی کی بات ہے ورنہ مالک خزائن السّماوات والارض کافی ہے۔جواب سے جلد مطلع فرما دیں کیونکہ میں نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ رسالہ قرآنی طاقتوں کا جلوہ جون کے ماہ میں شائع ہو گا۔سو میں چاہتا ہوں کہ اپنے ہی مطبع میں وہ رسالہ چھپنا شروع ہو جائے۔مجھے اس قرضہ کے بارہ میں کوئی اضطراب نہیں میں اپنے دل میں نہایت خوشی اور اطمینان اور سرور پاتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ میری دعائیں کرنے سے پہلے ہی مستجاب ہیں۔“ مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحه ۳۴، ۳۵ مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۴۰،۳۹۔مطبوعہ ۲۰۰۸ء) 66 یہ مکتوب مئی ۱۸۸۷ء کے اوائل میں آپ نے لکھا تھا مگر مشیت ایزدی میں اس رسالہ کے لئے یہ وقت نہ تھا اس لئے وہ بعض وجوہات کی بناء پر شائع نہ ہو سکا اور ایک زمانہ کے بعد قادیان سے اپنے ہی مطبع سے نورالقرآن جاری ہوا۔تکذیب براہین کا جواب انہیں ایام میں پنڈت لیکھرام نے تکذیب براہین احمدیہ کے نام سے ایک کتاب لکھی جو اس نے اپنے زعم میں براہین احمدیہ کے جواب میں لکھی تھی مگر کبھی کسی کو یہ حوصلہ نہ ہوا کہ براہین احمدیہ کی جلد اول میں جو شرائط جواب اور طلب انعام کے لکھے تھے ان کے موافق لکھ کر جواب کو پیش کرتا اس لئے اس موقعہ پر آپ نے حضرت حکیم الامت کو توجہ دلائی کہ وہ جواب لکھیں۔حضرت مولانا نورالدین رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ایک مرتبہ پوچھا کہ مجھے