حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 23 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 23

حیات احمد ۲۳ جلد دوم حصہ اوّل اوّل وہ نشان کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مخالفین نے خود حضرت ممدوح کے ہاتھ سے اور آنجناب کی دعا اور توجہ اور برکت سے ظاہر ہوتے دیکھے۔جن کو مؤلّف یعنی اس خاکسار نے تاریخی طور پر ایک اعلیٰ درجہ کے ثبوت سے مخصوص و ممتاز کر کے درج کتاب کیا ہے دوم وہ نشان جو خود قرآن شریف کی ذات با برکات میں دائمی اور ابدی اور بیشل طور پر پائے جاتے ہیں جن کو راقم نے بیان شافی اور کافی سے ہر ایک خاص و عام پر کھول دیا ہے اور کسی نوع کا عذر کسی کے لئے باقی نہیں رکھا۔سوم وہ نشان کہ جو کتاب اللہ کی پیروی اور متابعت رسول برحق سے کسی شخص تابع کو بطور وراثت ملتے ہیں جن کے اثبات میں اس بندہ درگاہ نے بفضل خداوند حضرت قادر مطلق یہ بدیہی ثبوت دکھلایا ہے کہ بہت سے سچے الہامات اور خوارق اور کرامات اور اخبار غیبیہ اور اسرار لدنیہ و کشوف صادقہ اور دعائیں قبول شدہ کو جو خود اس خادمِ دین سے صادر ہوئی ہیں اور جن کی صداقت پر بہت سے مخالفین مذہب (آریوں وغیرہ سے ) بشہادت و رؤیت گواہ ہیں کتاب موصوف میں درج کئے ہیں اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجد دوقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک دوسرے سے بشدت مناسبت و مشابہت ہے اور اس کو خواص انبیاء ورسل کے نمونہ پر محض به برکت متابعت حضرت خیر البشر وافضل الرسل صلی اللہ علیہ وسلم أن بہتوں پرا کا بر اولیا سے فضیلت دی گئی ہے کہ جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں اور اس کے قدم پر چلنا موجب نجات وسعادت و برکت اور اس کے برخلاف چلنا موجب بُعد و حرمان ہے۔یہ سب ثبوت کتاب براہین احمدیہ کے پڑھنے سے کہ جو منجملہ تین سو جزو کے قریب ۳۷ جز و چھپ چکی ہے ظاہر ہوتے ہیں اور طالب حق کے لئے خود مصنف پوری تسلی و تشفی کرنے کو ہر وقت مستعد اور حاضر ہے۔وَذَالِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ وَ لَا فَخُرَ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَی اور اگر اس اشتہار کے بعد بھی کوئی شخص سچا طالب بن کر اپنی