حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 169
حیات احمد ۱۶۹ جلد دوم حصہ دوم ☆ کی توسیع کی ضرورت پیش آئی اور خدا نے آپ ہی اس کی وسعت کے سامان پیدا کر دیئے۔اور حضرت کے چازاد بھائیوں سے ان کے مملوکہ خر اس کو خرید لیا۔اور آج اس کے نیچے بیت المال اور محاسب کا دفتر ہے اور اوپر اضافہ شدہ مسجد ہے۔اس مسجد میں امن کے نشانات کا بھی معائنہ ہوا ایک مرتبہ چھت میں ایک لیمپ لٹک رہا تھا اور حضرت اور آپ کے خدام بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے تھے کہ یکا یک لیمپ بھڑک اٹھا اور اس کے شعلے بلند ہوئے۔چھت جو سراسر لکڑی کی تھی دوفٹ کے قریب اس سے اونچی تھی مگر خدا کی قدرت اور شان ہے کہ باوجود اس کے کہ شعلے بلند ہوئے مگر اس لکڑی کو آنچ نہ آئی۔ذراسی سیا ہی سی آگئی مگر آگ لگی نہیں اور فوراً اسے بجھا دیا گیا۔یہ بھی خطرہ تھا کہ اگر اس لیمپ کو توڑ کر نیچے گرا دیا جاوے تو مٹی کا تیل ہونے کی وجہ سے نیچے آگ لگ جائے گی۔لیکن اس آفت سے بھی اللہ تعالیٰ نے بچا لیا اور اسی وقت حضرت نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اس کے لئے ”مَنُ دَخَلَـهُ كَانَ آمِنًا “ کا وعدہ فرمایا اور یہ اس کا تازہ ثبوت ہے۔خاکسار عرفانی اس نشان کے دیکھنے والوں سے ہے اور وہ اپنی خوش قسمتی پر نازاں ہے کہ اس کے سامنے ہی یہ واقعہ پیش ہوا۔پنڈت دیانند بانی آریہ سماج پر اتمام حجت اور اسلامی دعوت اس سال ۱۸۸۳ء کے اہم واقعات میں سے ایک عظیم الشان واقعہ پنڈت دیانند سرستی بانی آریہ سماج پر اتمام حجت اور اس کو اسلام کی طرف آخری دعوت ہے۔اگر چہ پنڈت دیانند صاحب سے بحث کا آغاز ۷۸۔۱۸۷۹ء میں ہوا۔روحوں کے بے انت ہونے کے عقیدہ پر سلسلہ بحث تحریری شروع ہوا اور بالآخر پنڈت دیانند کو اس عقیدہ کے چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا اور پنڈت شونرائن اگنی ہوتری کے رسالہ برادر ہند اور پادری رجب علی صاحب کے اخبار سفیر ہند کے ذریعہ یہ حقیقت آشکار ہوئی لالہ جیون داس سیکرٹری آریہ سماج لا ہور نے تو کھلم کھلا اعلان کیا۔میں ان مباحثات کے متعلق حیات النبی (حیات احمد ) کے حصہ دوم میں بہت کچھ تفصیل سے لکھ آیا ہوں خر اس کی خرید کا تمام انتظام خاکسار عرفانی کے ذریعہ ہوا۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ