حیات شمس — Page 620
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 588 بعد پانچ چھ سال کی عمر میں جہلم میں 1952ء میں وفات پاگئیں۔اس طرح مجھے اپنے والدین کا کوئی لاڈ پیار بلکہ اُن کی شکل وصورت بھی یاد نہیں۔والدہ کی وفات کے وقت بھائی جان مکرم مولوی بشیر احمد قمر مربی سلسلہ احمدیہ جامعہ احمدیہ احمد نگر میں پڑھتے تھے۔والدہ کی جدائی کے بعد بھائی جان سے بڑھ کر میرا کوئی ہمدرد اور خیر خواہ نہ تھا، اس لئے وہ مجھے احمد نگر لے آئے۔یہاں انہوں نے نامساعد حالات میں اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ میری تعلیم وتربیت کا بھی بوجھ برداشت کیا، یہاں پر ہی ان کی شادی خواجہ محمد حسین صاحب کی بیٹی سے ہو گئی جو کہ حضرت شمس صاحب کی بھانجی ہیں۔اس وجہ سے ہم حضرت شمس صاحب کو ماموں جان ہی کہا کرتے تھے۔اس تعلق کے بعد وقتا فوقتا ان کے ہاں آنے جانے اور بعض دفعہ کئی دنوں تک ان کے پاس ٹھہر نے کا اتفاق ہوتا رہا۔ہمیشہ محبت سے خیر و عافیت دریافت فرماتے۔بھائی جان کے متعلق قمر صاحب“ کہہ کر دریافت فرماتے۔پھر مطالعہ یا مضمون لکھنے یا سلسلہ کے کسی کام میں مشغول ہو جاتے۔زیادہ طول طویل گفتگو نہ فرماتے جتنی بات کرتے بشاشت اور خندہ پیشانی سے فرماتے۔وہ واقعہ جو مجھے کبھی نہ بھولے گا اور آپ کی پیاری یاد اور دُعا کا موجب ہوتا رہے گا انشاء اللہ یہ ہے کہ دسمبر 1956ء میں میر ارخصتانہ قرار پایا۔میرے سسرال جو چک جمال ضلع جہلم میں رہتے ہیں مصر تھے کہ رخصتانہ جلسہ سالانہ کے موقع پر ہوتا کہ ہم جلسہ پر آئیں تو لڑ کی ساتھ لے آئیں۔بھائی جان نے حضرت ماموں جان سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ ان دنوں میرا شامل ہونا مشکل ہے اگر آگے پیچھے کر لیا جائے تو اچھا ہے لیکن پروگرام بعض اور مجبوریوں کی وجہ سے نہ بدل سکا۔آپ کی اُن دنوں حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی کی بیماری کی وجہ سے بہت مصروفیت ہوتی تھی۔نیز نظارت کے کام کی وجہ سے بھی مصروفیت تھی لیکن آپ کا شریک نہ ہونا ہمارے لئے بھی بہر حال افسوس کی بات تھی۔29 دسمبر کو سات آٹھ بجے صبح برات نے احمد نگر پہنچنا تھا۔برات پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد ہمارے ماموں جان بھی کسی دوست، عزیز کی کار یا جیپ لے کر احمد نگر پہنچ گئے۔آپ کی اس غیر متوقع آمد پر سب ہی بہت خوش ہوئے۔فرمایا بہت تھوڑے وقت کیلئے آیا ہوں، دعا ہو جائے تا میں واپس جاسکوں۔فرش پر براتیوں اور مہمانوں کے ساتھ بیٹھ گئے مہمانوں کے ناشتہ سے فارغ ہونے پر دُعا کروائی۔بعد دعا آپ کے ساتھ مل کر مہمانوں نے فوٹو لینے کی خواہش کی۔آپ بیٹھ گئے۔فوٹو کھنچوایا اور پھر اٹھ کر اپنی بیٹی جمیلہ شمس اور بھانجے احمد حسین صاحب درویش کے ساتھ میرے پاس آگئے۔کھڑے کھڑے میرے سر پر پیار