حیات شمس

by Other Authors

Page xliv of 748

حیات شمس — Page xliv

xliii دل میں ایسے سوانح نولیس پر اعتراض بھی کرتا ہے اور درحقیقت وہ اس اعتراض کا حق بھی رکھتا ہے کیونکہ اس وقت نہایت اشتیاق کی وجہ سے اس کی مثال ایسی ہوتی ہے کہ جیسے ایک بھوکے کے آگے خوان نعمت رکھا جائے اور معاً ایک لقمہ کے اٹھانے کے ساتھ ہی اس خوان کو اٹھا لیا جائے۔اس لئے ان بزرگوں کا یہ فرض ہے جو سوانح نویسی کے لئے قلم اٹھاویں کہ اپنی کتاب کو مفید عام اور ہر دل عزیز اور مقبول انام بنانے کے لئے ، نامور انسانوں کے سوانح کو صبر اور فراخ حوصلگی کے ساتھ اس قدر بسط سے لکھیں اور ان کی لائف کو ایسے طور سے مکمل کر کے دکھلاویں کہ اس کا پڑھنا ان کی ملاقات کا قائم مقام ہو جائے تا اگر ایسی خوش بیانی سے کسی کا وقت خوش ہو تو اس سوانح نویس کی دنیا اور آخرت کی بہبودی کے لئے دعا بھی کرے اور صفحات تاریخ پر نظر ڈالنے والے خوب جانتے ہیں کہ جن بزرگ محققوں نے نیک نیتی اور افادہ عام کے لئے قوم کے ممتاز شخصوں کے تذکرے لکھے ہیں، انہوں نے ایسا ہی کیا ہے۔(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحات 159 تا 162۔حاشیہ) اس غرض کے پیش نظر اشاعت اسلام احمدیت اور خدمات سلسلہ عالیہ احمد یہ پرمشتمل حضرت مولانا موصوف کے کار ہائے زندگی کو قدرے تفصیل سے پیش کیا گیا ہے۔تاہم خاکساراپنی کم علمی کا اعتراف کرتا ہے کہ جس طرح محنت کرنے کا حق تھا پورے طور پر ادا نہیں کیا گیا۔دعا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کاوش کو قبولیت کا شرف بخشے اور آپ کی یہ سوانح حیات بہتوں کیلئے خدمات دینیہ کے عزائم کو بلند سے بلند تر کرنے کا باعث ہو اور واقفین زندگی کے لئے سبیل الرشاد ہو۔اللہ تعالیٰ اسے نافع الناس بنائے۔آمین۔والسلام خاکسار مؤلف احمد طاہر مرزا بد و ملهوی مئی 2010ء