حیات شمس — Page 292
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 276 روز جو نو مسلم آتے ہیں انہیں بھی سبق دیا جاتا ہے اور دو ہفتہ سے ہندوستانیوں کیلئے بھی درس قرآن کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔آئندہ بھی ہر اتوار کو یہاں کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے قرآن مجید کے خاص خاص حصص کا انشاء اللہ تعالیٰ درس دیا جایا کرے گا۔اس میں غیر احمدیوں کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔تمام احباب جماعت سے دعا کیلئے عاجزانہ درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں کو قبولیت حق کیلئے خاکسار جلال الدین شمس از لنڈن۔کھول دے۔الفضل قادیان 11اکتوبر 1936ء) روٹری کلب اور ہائیڈ پارک میں لیکچرز ، ایک پادری سے مکالمہ ( حضرت مولانا جلال الدین شمس ) لنڈن میں ہائیڈ پارک ایک ایسا مقام ہے جہاں مختلف مذاہب کے نمائندے آزادی سے اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر سٹیج لگے ہوتے ہیں۔اگر ایک سٹیج پر سے یہ آواز سنائی دیتی ہے کہ یسوع مسیح تمام دنیا کا نجات دہندہ ہے تو دوسرے سٹیج سے اس کے خلاف آواز اٹھتی ہے۔مذہبی لیکچروں کے علاوہ سیاسی لیکچر بھی ہوتے ہیں اور جو شیح کسی مذہب سے متعلق ہوتی ہے اس پر اس مذہب کا نام لکھا ہوتا ہے۔انہی سٹیجوں میں آپ کو ایک ایسی سٹیج بھی دکھائی دے گی جس پر اسلام لکھا ہوا ہے اور وہ احمدی کی سٹیج ہے۔ہر جمعرات کو وہاں اسلام کی تائید میں لیکچر دیا جاتا ہے اور لیکچر کے بعد سوالات کے جوابات دیئے جاتے ہیں۔چنانچہ برادرم عبدالعزیز صاحب نے دو لیکچر اور میر عبد السلام صاحب نے تین لیکچر دیئے۔لیکچروں کے علاوہ مجھ سے بھی بعض لوگوں کی گفتگو ہوتی ہے۔گفتگو کے وقت پندرہ ہیں بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ اشخاص ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ان میں سے بعض مکالمات خلاصہ کے طور پر ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔پادری ( دوران تقریر میں ) ہمارے چرچ کا بنیادی پتھر یسوع مسیح ہے اس لئے چرچ کی بنیاد بڑی مضبوط ہے۔کیونکہ یسوع مسیح ہماری پناہ ہے۔شمس (اختتام تقریر پر ) انجیل میں تو لکھا ہے کہ مسیح نے پطرس سے کہا کہ تو وہ چٹان ہے جس پر میں اپنا چرچ بناؤں گا۔لیکن معا اس کے بعد اسے شیطان کے لقب سے ملقب کیا جیسا کہ آیت 23 میں مذکور ہے۔نیز پطرس نے تین دفعہ مسیح کا انکار کیا اور جھوٹے پر لعنت بھی کی۔اس سے