حیات شمس

by Other Authors

Page 237 of 748

حیات شمس — Page 237

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 221 بات پر اتفاق کرلے تو وہ ان کا اجماع کہلائے گا مگر ایک زمانہ کے علماء نہ کبھی اکٹھے ہوئے اور نہ ان کی آراء لے کر کسی بات پر اجماع ہوا ہے۔قاضی سب علماء نے یہ فرق کیا ہے۔شمس: کیا شیخ محی الدین ابن العربی علماء امت میں سے نہیں تھے؟ قاضی: ہاں ضرور تھے۔س انہوں نے نبوت ورسالت کو دو قسموں میں منقسم کیا ہے شرعی اور غیر شرعی۔قاضی ان کی یہ شخصی رائے ہے جو حجت نہیں ہو سکتی۔شمس ہر ایک نے شخصی رائے کا اظہار کیا ہے ہم پر بھی ان کی رائے حجت نہیں ہوسکتی۔قاضی تو پھر کیا آپ رسول و نبی کے الفاظ کو مترادف خیال کرتے ہیں۔آپ جانتے ہیں کہ مترادف کیا ہوتا ہے؟ شمس مترادف کہتے ہیں دو لفظ یا دو سے زیادہ ایسے لفظ ہوں جن کے معنے ایک ہوں۔میں یہ نہیں کہتا کہ ان کے معانی واحد ہیں بلکہ میں کہتا ہوں کہ ان کا مصداق ایک ہوتا ہے۔جو اصطلاحی شریعت میں نبی ہوتا ہے وہ رسول بھی ہوتا ہے اور جو رسول ہوتا ہے وہ نبی بھی ہوتا ہے۔اس لحاظ سے کہ اللہ تعالیٰ اسے کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دیتا ہے وہ نبی کہلاتا ہے اور اس پہلو سے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوتا ہے رسول کا لقب پاتا ہے مگر شخصیت کے لحاظ سے وہ ایک ہی ہوتا ہے۔قاضی تو کیا علماء غلطی پر تھے جو انہوں نے یہ تعریف کی؟ شمس انہوں نے کسی وجہ سے یہ اصطلاح قائم کی ہوگی۔ولکل ان يصطلح مگر قرآن مجید سے ہماری بات کی تصدیق ہوتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے آیت فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَ مُنْذِرِينَ (البقرة :214) میں نبی کو مبشر اور منذ رقرار دیا ہے۔ویسے ہی آیت رُسَلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَ مُنْذِرِينَ (النساء : 166) میں رسول کو مبشر اور منذر قرار دیا۔اسی طرح ایک جگہ فرمایا۔مَا يَا تِيْهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كانوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ ونَ (الحجر: 12) اور ایک آیت میں فرمایا۔إِنَّا اَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيْهَا هُدًى وَّ نُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ (المائده : 45) پھر انہی انبیاء کو جو تورات کی شریعت پر عامل تھے دوسری آیت میں رسل کہا۔جیسے فرمایا۔وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ (البقرة : 88) پس ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نبی یا رسول کے لئے نئی