حیات شمس

by Other Authors

Page 180 of 748

حیات شمس — Page 180

۔خالد احمد بیت حضرت مولانا جلال الدین شمس پیارے آق حضرت خلیفہ مسیح الثانی فضل عمرایک اللہ بنصرہ العزیز! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس نے مجھے محض اپنے فضل و کرم سے اتنی طاقت عطا فرمائی کہ میں حضور کی خدمت میں یہ عریضہ لکھوں۔پیارے آقا! میری زندگی کی کوئی امید نہ تھی۔اطبا کہتے تھے کہ پانچ فیصدی بھی بچنے کی امید نہیں۔مخالفوں نے حادثہ کے دوسرے روز میری موت کی خبر مشتہر کر دی تھی مگر حضور اور جماعت کی دعاؤں کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مجھے خارق عادت طور پر جلدی شفا عطا فرمائی کشتی کہ بعض طبیب بھی حیرانگی کا اظہار کرتے ہیں۔آج مجھے چار پائی پر لیٹے ہوئے گیارہ دن ہو گئے ہیں۔آج ڈاکٹروں نے آخری معائنہ کیا۔زخموں پر سے پٹیاں کھول دی ہیں۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے زخم مندمل ہونے کے قریب ہیں مگر ابھی تک کمزوری کی وجہ سے چلنے کی طاقت نہیں ہے۔حادثہ کی تفصیل تفصیل حادثہ کی یہ ہے کہ پہلے تو مجھے مدت سے خطوط میں قتل کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔چنانچہ ٹریکٹ الجهاد الاسلامی (جس میں میں نے یہ ثابت کیا تھا کہ اس وقت دین کے لئے قتال جائز نہیں بلکہ یہ زمانہ تبلیغ کا زمانہ ہے ) کے بعد مشائخ کی طرف سے یہ خط آیا تھا کہ چونکہ تم جہاد دینی اور دین کے لئے قتال کو حرام قرار دیتے ہو اس لئے ہم پر تمہارا خون گرانا واجب ہے۔پھر دو ماہ سے جب میں نے ان کے چیلنج مباحثہ کا جواب دیتے ہوئے شرائط مناظرہ شائع کیں اور لکھا کہ مناظرہ تحریری ہونا چاہیئے اور فـلـمـا تـو فیتنی کے موت کے سوا آسمان پر اٹھا لینے کے معنی ثابت کرنے پر تین ہزار قرش انعام مقرر کر دیا اور علاوہ ازیں پانچ چھ اشخاص بھی سلسلہ میں داخل ہو گئے تو پھر انہوں نے منبروں پر مساجد میں لوگوں کو ہمارے خلاف اکسانا شروع کیا اور کہا کہ نہ تم اس ہندی سے ملونہ اس کی کتابیں پڑھو اور مزید برآں انہوں نے مخفی کمیٹیاں بھی کیں جن میں قتل و غیرہ کے مشورے کرتے رہے جیسا کہ میں حضور کو ان امور کے متعلق خطوں میں اطلاع دیتا رہا ہوں جب سے یہاں جنگ شروع ہوئی ہے ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں اس لئے ان کو دیکھتے ہوئے میں مستبعد نہیں سمجھتا تھا کہ میرے ساتھ 180