حیات شمس — Page 178
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس اظہار تشکر 178 حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس دمشق میں تبلیغ کے دوران شدید زخمی ہو گئے تھے خدا تعالیٰ نے اعجازی طور پر آپ کو نئی زندگی عطا فرمائی۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے احباب جماعت کو آپ کیلئے دعا کی تحریک فرمائی۔حضرت مولانا صاحب اظہار تشکر کرتے ہوئے اس کی بابت اپنے مکتوب میں تحریر کرتے ہیں : السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ الحمد للہ کہ زخم تقریبا مندمل ہو چکے ہیں مگر ابھی تک پوری صحت نہیں ہوئی۔ڈاکٹروں نے ہسپتال سے باہر رہنے کی اجازت دے دی تھی کیونکہ اب علاج کی ضرورت نہ رہی تھی۔اس لئے بتاریخ 8 جنوری ہسپتال سے چلا آیا ہوں اور ایک ہوٹل میں فی الحال کمرہ لیا ہے۔اب کچھ چل پھر بھی لیتا ہوں۔چونکہ سردی سخت پڑ رہی ہے، برف پڑتی ہے اس لئے ڈاکٹر کے مشورہ کے مطابق باہر پھرنے سے پر ہیز کرتا ہوں۔پیارے آقا حضرت خلیفہ اسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اور جماعت کی دعاؤں کی برکت ہے کہ اتنی جلدی مجھے اللہ تعالیٰ نے شفا عطا کی۔جب حضور کی خدمت میں تار روانہ کیا گیا تو یہاں کے بعض احمدی غیر احمدیوں سے کہتے تھے اب دعا کیلئے تار دے دیا گیا ہے انشاء اللہ خدا تعالیٰ شفا عطا فرمائے گا۔اس حادثہ سے بہت سے لوگوں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کا ذکر پہنچا ہے۔جس دن سے مجھے کلام کرنے کی طاقت ہوئی ہے اسی دن سے برابر تبلیغ کر رہا ہوں۔شفا خانہ میں بھی اور یہاں بھی بہت سے لوگ اب کتابیں پڑھنے کا شوق ظاہر کر رہے ہیں۔مشائخ تو اخلاقی موت مر چکے ہیں اس واقعہ سے مخلص احمدی اپنے ایمان اور اخلاص میں ترقی کر رہے ہیں۔منیر آفندی اکھنی جو جرمنی میں بھی تین سال تک تعلیم پاچکے ہیں اور جرمنی اور عربی اور فرنساوی اور ترکی خوب جانتے ہیں اور انگریزی زبان بھی کچھ کچھ جانتے ہیں ان کا شکر یہ ادا کرتا ہوں ان کے متعلق میں پھر کسی وقت زیادہ لکھوں گا۔برادر احسان سامی حقی کے چھوٹے بھائی مدوح حقی کے ایک خط میں سے جو اس نے اس حادثہ کی خبر سننے کے بعد حلب سے یہاں ایک احمدی دوست محمد علی بیگ حیدر کے نام بھیجا ہے چند اقتباسات کا ترجمہ لکھتا ہوں۔برادرم مدوح حقی نہایت مخلص اور جوشیلانو جوان