حیات شمس — Page 82
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 82 ہوا تھا تو اس کے تھوڑے عرصے بعد یا اس سے پہلے ہی مولوی جلال الدین صاحب شمس غیر ملکوں میں فریضہ تبلیغ کے لئے روانہ ہو چکے تھے۔انگلستان میں بہت عرصہ رہے جب واپس گئے تو اس بچے کی عمر گیارہ بارہ سال کی تھی اور سٹیشن سے جب مولوی صاحب کو گھر لایا جارہا تھا اور ٹانگے میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو مولوی صاحب نے کہا کہ صلاح الدین کہاں ہے۔میرا دل چاہتا ہے میں اپنے بچے کو دیکھوں، اس پر کسی نے کہا کہ مولوی صاحب صلاح الدین آپ کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے، اس کو دیکھیں۔یہ قربانی کرنے والے احمدی ہیں جن کی اولا دیں اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے آگے پھر دین میں جت رہی ہیں۔پھر آگے انشاء اللہ ان کی اولادیں جتی رہیں گی۔تو مولوی منیر الدین صاحب شمس نے مجھے توجہ دلائی کہ اگر کسی کا حق ہے جنازہ غائب کا تو پھر میرے بھائی کا تو بدرجہ اولی حق ہے۔میں نے اسے تسلیم کیا۔عام طور پر تو جب کوئی حاضر جنازے آتے ہیں تو ہم دوسرے جنازے ساتھ ملالیا کرتے ہیں مگر جس رنگ میں مجھے تحریک ہوئی ہے میں نے اس کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا ہے کہ آج جمعہ کے بعد اور عصر کے بعد مولوی جلال الدین صاحب شمس مرحوم و مغفور کے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر صلاح الدین کی نماز جنازہ غائب بھی پڑھائی جائے گی۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 22 فروری 1991ء) آپ کی بقیہ اولاد بفضلہ تعالیٰ بقید حیات ہے اور مختلف طور پر جماعتی خدمات بجالانے کی توفیق وسعادت پارہی ہے۔محترمہ جمیلہ نیم صاحبہ کینیڈا میں مقیم ہیں، کرم فلاح الدین صاحب شمس جو The Muslim Sunrise امریکہ کے ایڈیٹر ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کئی دیگر خدمات سلسلہ کی بھی توفیق پارہے ہیں، مکرم بشیر الدین صاحب شمس ، مکرم ریاض الدین صاحب شمس ، محترمہ عقیلہ شمس صاحبہ امریکہ میں مقیم ہیں جبکہ مکرم مولانا منیر الدین صاحب شمس انگلستان میں بطور ایڈیشنل وکیل التصنيف اور دیگر کئی خدمات سلسلہ بجالا رہے ہیں۔محترمه سعیده بیگم صاحبہ کی وفات 5 ستمبر 2007 ء کو Hattiesburg, Mississippi امریکہ میں ہوئی۔آپ نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے 94 سال عمر پائی۔حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کی وفات 13 اکتوبر 1966ء کو ہوئی تھی اس طرح آپ کی اہلیہ محترمہ نے آپ کی وفات کے بعد 41 سال بڑے صبر وشکر کے ساتھ اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے گزارے۔قریباً 30 سال سے آپ اپنے