حیات شمس — Page 69
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس میدان عمل 69 69 میدان عمل نام ہے زندگی کا، یہ نام ہے خدمت خلق کا ، نام ہے خدمت دین کا۔ایک مبلغ اور واقف زندگی کا کل سرمایہ حیات میدان عمل ہے۔اللہ تعالیٰ نے میدان عمل میں کام کرنے والوں یعنی مجاہدین کو قاعدین پر فضیلت دی ہے جیسا کہ فرمایا : فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِيْنَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِيْنَ دَرَجَةً وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِيْنَ عَلَى الْقَاعِدِيْنَ أَجْراً عَظِيْماً (سورة النساء : 96) یعنی اللہ نے اپنے اموال اور اپنی جانوں کے ذریعہ جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر ایک نمایاں مرتبہ عطا کیا ہے۔جبکہ ہر ایک سے اللہ نے بھلائی کا ہی وعدہ کیا ہے۔اور اللہ نے مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر ایک اجر عظیم کی فضیلت عطا کی ہے۔(ترجمه بیان فرمودہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع) حضرت مولانا شمس صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ایک طویل مدت زمرہ مجاہدین میں اور کئی سال قاعدین میں خدمت و اشاعت اسلام کی سعادت بخشی ہے۔آپ کا میدان عمل 1920ء میں ہی شروع ہو گیا جو 1966 ء تک تادم زیست جاری و ساری رہا۔زمانہ طالب علمی میں 1920ء میں مولانا جلال الدین صاحب شمس نے مولوی ثناء اللہ امرتسری سے ایک ملاقات کی۔ایک مدرسہ کے طالب علم اور مولوی صاحب کی ملاقات کی روئیداد مولانا شمس صاحب کی زبانی پیش ہے۔مولوی ابوتراب ثناء اللہ امرتسری سے ایک ملاقات راقم بہمراہ چند طلباء مدرسہ احمدیہ قادیان، امرتسر میں مولوی ثناء اللہ کی طرف جا رہے تھے کہ راستہ میں مولوی ابوتراب کی دُکان آ گئی۔سب نے ان سے ملنے کی خواہش کی اس واسطے ہم مولوی صاحب موصوف کے پاس جا کر بیٹھ گئے مولوی صاحب ہم سے یوں ہمکلام ہوئے۔مولوی: آپ امرتسر کیسے تشریف لائے ہیں؟ احمدی: حضرت خلیفہ امسیح کا یہاں چار بجے لیکچر ہوگا لیکچر کے لیے آئے ہیں۔