حیات شمس — Page 62
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس وو 62 بیعت کر لی تھی اور آپ نے اس عہد کو اپنے آخری سانس تک نہایت ہمت و جوانمردی سے نبھایا۔چونکہ اس زمانہ میں تعلیم کا رواج نہ تھا اس لئے آپ کچھ زیادہ تعلیم نہ پاسکیں ہاں اپنے والد صاحب سے اتنا ضرور پڑھ لیا تھا کہ قرآن شریف بآسانی اور بڑی خوبی سے پڑھ سکتی تھیں۔چنانچہ آپ روزانہ تلاوت قرآن پاک کرتیں اور نمازیں ادا کرتیں۔مجھے ابھی تک یاد ہے کہ جب آپ بہت بوڑھی اور کمزور ہوگئیں تو آپ کی چار پائی قبلہ رخ بچھائی جاتی۔ادھر اذان ہوتی اُدھر آپ نماز شروع کر دیتیں اور یہ دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نصیحت کا اثر تھا۔ایک مرتبہ آپ ابا جان کی چچی صاحبہ اور پھوپھی صاحبہ مائی کا کو کے ساتھ حضرت مسیح موعود کے پاس حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ حضور بعض دفعہ بچے پیشاب کر دیتے ہیں اور کپڑے صاف نہیں ہوتے یا پھر کام پڑ جاتا ہے تو کیا ہم نماز ترک کر دیا کریں یا قضاء کیا کریں۔تو اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تاکید فرمایا کہ نماز نہیں چھوڑنی چاہیے جس طرح بھی ہو سکے نماز پڑھ لینی چاہئیے اور خاص طور پر مغرب کی نماز کے متعلق فرمایا کہ اس وقت دن اور رات کے فرشتے اکٹھے ہو جاتے ہیں اس لئے اسے ضرور وقت پر پڑھ لینا چاہئیے۔حضرت دادی جان نے اس نصیحت پر آخری وقت تک پوری طرح عمل کیا اور کبھی بھی نماز ترک نہ کی۔جو میاں صاحب کہندے نے اوہی کرو حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 1925ء میں حضرت ابا جان کو شام جانے کے متعلق فرمایا تو جب ابا جان نے حضرت دادی جان سے بات کی کہ حضور مجھے شام کے علاقہ میں بھیجوانا چاہتے ہیں تو آپ نے پنجابی میں فرمایا کہ وو جو میاں صاحب کہندے نے اوہی کرو یعنی جس طرح حضرت صاحب فرماتے ہیں ویسے ہی کرو۔حضرت ابا جان فرماتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ سلسلہ کے کاموں کے سرانجام دینے میں مجھے اپنے والدین کی طرف سے کبھی روک نہیں ہوئی۔“ (مصباح سالنامہ 1969 ص78-79)