حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 94 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 94

حضور انور کے اس خطاب کے چند اہم نکات ذیل میں پیش کئے جا رہے ہیں اللہ تعالی کی نورانی صفات میں سے ایک لاشَرقِیةٍ وَلَا غَربيةٍ ہے یعنی خدا تعالیٰ مشرق کا بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ مغرب کا اسی طرح حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم بھی پوری دنیا کے لئے ایک پیغمبر ہیں آپ نہ مشرقی رجحانات رکھتے ہیں اور نہ مغربی بلکہ آپ کے تو انہی بلکہ آپ کے تو انہی رجحانات ہیں آپ کے دین کو بھی وسطی دین قرار دیا گیا۔قرآنی آیت لَا شَقِيةٍ ولا عربية میں دنیا کے مسائل حل کرنے کا ایک بہت ہی عظیم الشان نسخہ بیان فرما دیا گیا ہے مشرق بھی خدا کا ہے اور مغرب بھی خدا کا ، ان دونوں کو ضرور ملا دیا جائے گا یہ خدا کی تقدیر ہے جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔۔اس تقدیر الہی کی رو سے بالآخر سچی (دینی۔۔۔ناقل) تعلیمات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا پاک اسوہ دنیا میں پھیلایا جائے گا اسی اسوۂ حسنہ کے غلبہ کے نتیجہ میں دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو گی جہاں مشرق و مغرب کی تمیزیں مٹا دی جائیں گی اور دنیا میں انسان ملت واحدہ کا فرد بن کہ زندگی بسر کرے گا یہ تقدیر ان احمدیوں کے ذریعہ ظاہر ہوگی اور ہو رہی ہے جو تمام دنیا میں اس غرض کے لئے پھیلا دیئے گئے ہیں۔ہر احمدی جو مغرب کا سفر اختیار کرے یا مشرق کا وہ بلا امتیاز مذہب و ملت اور بلا امتیاز قومیت وہ ہمیشہ خدا کا نمائندہ بنا رہے۔(احمدی) اپنی قومیتوں کو اپنے مذہب میں مدغم نہ کریں۔آئندہ نسلوں کے جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ آج کی ماؤں نے کرنا ہے آج کی بہنوں نے کرنا ہے وہ پاک عورتیں جو محمد کی امتی اور غلام ہیں جو پر دیانت داری اور تقوی کے مطابق عمل کرنے والی ہیں ان کے پاؤں تلے جنت ہے۔الحياء خير لله یعنی حیا ایک ایسی انسانی خوبی ہے جو تمام تر خیر ہی خیر ہے - به خوبی مغرب سے عنقا ہوتی جا رہی ہے جیا کو ہرگز مرنے نہ