حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 8 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 8

حضور اثور کے اس خطاب کے چند اہم نکات ذیل میں پیش کئے جا رہے ہیں تمام عالم کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنے کا مقصد صرف اور صرف ایک ہی صورت میں پورا ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ تمام عالم کو خدائے واحد و یگانہ کی ذات پر اکٹھا کر دیا جائے اس کے سوا اور کوئی حوالہ نہیں ہے جس سے آپ منتشر بنی نوع انسان کو ایک ذات میں اکٹھا کر سکیں۔صرف انصاف کے بغیر دنیا میں امن ممکن نہیں مکمل انصاف اور صرف خدا کی ذات کے تعلق میں قائم ہو سکتا ہے۔نوع انسان کو خدا کے نام پر اکٹھا کرنے کے لئے جماعت احمدیہ قائم کی گئی ہے۔دیوں کو اکٹھا کرنا بنیادی چیز ہے۔اس کے بغیر نہ افراد اکٹھے ہو سکتے ہیں نہ قومیں دلوں کو ملانے کا کام دو حصوں سے تعلق رکھتا ہے۔ایک اپنے نظریہ اور لائحہ عمل میں ایسی پک تبدیلی کہ نفرتیں محرکات میں شامل نہ ہوں جب تم بدی کو دیکھو تو بدی کی دشمنی تمہارے پیش نظر نہ رہے، ہدی کو حسن میں تبدیل کرنا تمہارا مقصود بن جائے یہ مضمون ذات سے شروع ہوتا ہے جب تک آپ کی ذات میں (دین حق) کی روشنی لوگوں کو دکھائی نہ دے گی دنیا آپ کی باتوں کو کبھی قبول نہیں کرے گی۔خدا نما بنے سے پہلے خود خدا کو اپنی ذات میں جلوہ گر کرنا ضروری ہے۔دوسرا یہ کہ خدا تعالی -۔۔سے۔تعلق جب ایک خدا تعالیٰ کا خاص فضل اور تصرف شامل حال نہ ہو ولوں کو جوڑا ہی نہیں جا سکتا۔آج دنیا کے سارے مسائل کا حل خدا کی محبت ہے۔ہی محبت ہے جو ولوں کو اٹھا کر سکتی ہے۔یہ محبت کا بجنون ہے جو دنیا میں پاک بیڑیاں پیدا کرے گا اس محبت کا سفر انفرادی طور پر ہر شخص کو کرنا ہو گا۔آج سب سے زیادہ اس محبت کے سفر کی احمدی خواتین کو ضرورت ہے