حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 11 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 11

وه تازه قدرتیں جو خدا پر دلیل ہیں وہ زندہ طاقتیں جو یقین کی سبیل ہیں اس بے نشاں کی چہرہ نمانی نشاں سے ہے 8 ہے کہ سب ثبوت خدائی نشاں سے ہے اس ذات پاک سے جو کوئی دل لگاتا ہے آخر وہ اس کے رحم کو ایسا ہی پاتا ہے جو کھینچے گئے کچھ ایسے کہ دنیا سے سو گئے کچھ ایسا نور دیکھا کہ اس کے ہی ہو گئے دن دیکھے کس طرح کسی مہ رخ یہ آئے دل کیونکر کوئی خیالی صنم سے لگائے دل دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی حسن جمال یار کے آثار ہی سہی جب تک خدائے زندہ کی تم کو خبر نہیں بے قید اور دلیر ہو کچھ دل میں ڈر نہیں تم اے سونے والے جاگو کہ وقت بہار ہے اب دیکھو آ کے در پہ ہمارے وہ یار ہے ہے دیں وہی کہ جس کا خدا آپ ہو غیاں خود اپنی قدرتوں سے دکھا دے کہ ہے کہاں س رخ کو دیکھنا ہی تو ہے اصل مدعا جنت بھی ہے یہی کہ مے یار آشنا قرآن قصوں سے پاک ہے ، منقول از بر این احمدیہ حصہ نجم صفراول)