ہستی باری تعالیٰ — Page 185
۱۸۵ پانچواں جواب یہ کہ مضرتوں کو خدا تعالیٰ نے اس لئے بنایا ہے تا ظاہر فرمائے کہ کون سے لوگ ناشکرے ہیں پس مضرتوں کا یہ بھی فائدہ ہے کہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ کس کی محبت خودغرضانہ ہے اور کس کا تعلق مخلصانہ کئی لوگ ہوتے ہیں جو آرام اور آسائش میں تو خدا تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں لیکن تکلیف پر شور مچا دیتے ہیں۔لیکن ایسے بھی ہوتے ہیں جو تکلیف کے وقت بھی خدا کو نہیں بھولتے اور دراصل یہی خدا کے پیارے اور محبوب ہوتے ہیں۔حضرت لقمان کا واقعہ لکھا ہے کہ وہ ایک دفعہ گرفتار ہو کر کسی کے پاس پک گئے مگر جس مالک کے پاس گئے وہ ان سے بہت اچھا سلوک کرتا تھا۔ایک دن اس کے پاس بے فصل کا خربوزہ تحفہ آیا اس نے اس میں سے ایک پھانک کاٹ کر انہیں کھانے کے لئے دی جسے انہوں نے بہت ہی مزے سے کھایا۔اس نے یہ خیال کر کے کہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ خربوزہ انہیں بہت پسند آیا ہے ایک پھانک کاٹ کر اور دی وہ بھی انہوں نے خوب مزے سے کھائی اس نے ایک پھانک اور دی اور اس کے بعد خودشوق سے ایک پھانک کا ٹکڑا منہ میں ڈالا لیکن اسے وہ خربوزہ ایسا بد مزہ معلوم ہوا کہ فورا قے آگئی۔اس نے حضرت لقمان سے پوچھا کہ ایسا کر وا خربوزہ تم مزے لے لے کر کیوں کھاتے رہے؟ کیوں نہ مجھے بتایا کہ میں بار بار پھانکیں کاٹ کر تمہیں دیتا رہا۔انہوں نے کہا اسی ہاتھ سے میں نے کثرت سے میٹھی چیزیں کھائی ہیں اگر ایک چیز کڑوی بھی مل گئی تو کیا حرج تھا۔کیا میں ایسا ناشکر گزار تھا کہ اتنی میٹھی چیزیں کھانے کے بعد ایک کڑوی چیز ملنے پر شور مچادیتا؟ غرخ شکر گزاری کا پتہ مضرتوں سے ہی لگتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے مضر تیں بھی