حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 127 of 148

حقیقتِ نماز — Page 127

حقیقت نماز رڈ کی جانے والی نمازیں جس نماز میں دل کہیں ہے اور خیال کسی طرف ہے اور منہ سے کچھ نکلتا ہے وہ ایک لعنت ہے جو آدمی کے منہ پر واپس ماری جاتی ہے اور قبول نہیں ہوتی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے: وَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمُ سَاهُونَ (الماعون ۲،۵) لعنت ہے اُن پر جو اپنی نماز کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 45 مطبوعہ 2010ء) صرف ظاہری اعمال سے جو رسم اور عادت کے رنگ میں کئے جاتے ہیں کچھ نہیں بنتا۔اِس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ میں نماز کی تحقیر کرتا ہوں۔وہ نماز جس کا ذکر قرآن میں ہے اور وہ معراج ہے۔بھلا ان نمازیوں سے کوئی پوچھے تو سہی کہ ان کو سورہ فاتحہ کے معنے بھی آتے ہیں۔پچاس پچاس برس کے نمازی ملیں گے مگر نماز کا مطلب اور حقیقت پوچھو تو اکثر بے خبر ہو نگے حالانکہ تمام دنیوی علوم ان علوم کے سامنے ہیچ ہیں۔بایں دنیوی علوم کے واسطے تو جان توڑ محنت اور کوشش کی جاتی ہے اور اس طرف سے ایسی بے التفاتی ہے کہ اُسے جنتر منتر کی طرح پڑھ جاتے ہیں۔۔۔نماز کو رسم اور عادت کے رنگ میں پڑھنا مفید نہیں بلکہ ایسے نمازیوں پر تو خود خدا تعالیٰ نے لعنت اور ویل بھیجا ہے چہ جائیکہ اُن کی نماز کو قبولیت کا شرف حاصل ہو۔وَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ (الماعون (۵) خود 127