حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 17
لکھا ہے :- اور اُس وقت ابن آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا اور اُس وقت زمین کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی اور ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گی۔“ نیز لکھا ہے :- متی باب ۲۴ آیت ۳۰) ابن آدم تو جیسا اُس کے حق میں لکھا ہے جاتا ہی ہے لیکن اُس آدمی پر افسوس ہے جس کے وسیلے سے ابن آدم پکڑایا جاتا ہے اگر وہ آدمی پیدا نہ ہوتا تو اس کے لئے اچھا ہوتا۔“ متی باب ۲۶ آیت ۲۴) اتنا ہی نہیں بلکہ مسیح نے خدا کا بیٹا ہونے سے انکار کرتے ہوئے اپنے آپ کو ابن آدم ہی کہا ہے۔لکھا ہے :- مگر مسیح چپکا رہا سردار کا بہن نے اس سے کہا میں تجھے زندہ خدا کی قسم دیتا ہوں کہ اگر تو خدا کا بیٹا مسیح ہے تو ہم سے کہہ دے۔یسوع نے اُس سے کہا تو نے خود کہہ دیا۔بلکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اس کے بعد تم ابن آدم کو قادر مطلق کی دہنی طرف بیٹھے اور آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھو گے۔“ متی باب ۲۶ آیت ۶۳، ۶۴) قارئین ! میں نے صرف مستی سے ہی چند حوالے آپ کے سامنے مسیح کے نسب نامہ کے پیش کئے ہیں جبکہ بائبل ایسے حوالوں سے بھری پڑی ہے تو اب سوچیں اور غور کریں کہ اس قدر تکرار کے ساتھ ابن آدم ابن آدم کہنے سے مسیح ابن اللہ کیسے ہو سکتے ہیں۔پس اصل نسب وہی کہلائے گا جو خود پیش کیا جائے اور بائبل جابجا مسیح کے ابن آدم ہونے کی شہادت دیتی ہے۔ان حوالوں کے ہوتے ہوئے مسیح کسی صورت میں بھی ابن اللہ نہیں کہلا