حمد و مناجات — Page 78
78 جناب محمد شفیع اشرف صاحب رواں ہے تری حمد کا میرے پیارے مرے لب پہ صاف اور شفاف دھارا تری ذات ہے سب جہانوں کی والی تری ذات ہے بے کسوں کا سہارا تصدق تری شانِ رحمانیت کے بخشا ہے خود تو نے اُلفت کا جذبہ وگرنہ کہاں میں کہاں ذات تری، ترا یہ بھی احساں ہے پرور دگارا ہجوم تجلی سے پُر نور کردے مرے خانہ دل کی تاریکیوں کو سر طور عشق ومحبت ہمیشہ مجھے خلوتوں میں ہے میں نے پکارا بدل دے مری ظلمتِ شام غم کو کبھی نور صبح مسرت میں مولا میں فر باں تری جلوہ سامانیوں کے محبت کا کوئی دکھادے نظارا تجھے واسطہ ہے تری احدیت کا مجھے واقف رمز توحید کر دے ملا دے جو ہے نقش باطل دوئی کامن وتو کے پردے ہوں سب پارا پارا ضلالت کی تاریکوں سے بچا کر مجھے راہ حق پر چلاتا چلا چل مجھے اپنے عشاق کے ساتھ کر دے چمکتا رہے میری قسمت کا تارا نگاہ کرم ہو کبھی اس طرف بھی ، ادھر بھی کبھی گوشه چشم رحمت بڑی دیر سے تیرے در پہ کھڑا ہے اشرف ترا بے کس و بے سہارا