حمد و مناجات — Page 76
76 جناب عبد السلام اسلام صاحب ریگ زاروں، چاند تاروں، لالہ زاروں، میں وہی مرغزاروں، کوہساروں، آبشاروں میں وہی رنگارنگ کے بھیس میں ہے حسن قدرت کی نمود موسم باراں میں، پت جھڑ میں، بہاروں میں وہی ٹکٹکی باندھے ہوئے ہے چشم نرگس میں وہ کون؟ کرتا ہے چشمک زنی ہر فجر تاروں میں وہی ہے وہی سیمیں بدن مضمر شپ مہتاب میں لالہ رخ بن کر شفق کے لالہ زاروں میں وہی شورش و ہنگامہ خیزی ہر دیار و شہر میں اور چپ سادھے کھڑا ہے کوہساروں میں وہی دست شفقت پھیرتا ہے کون مادر کی طرح صور فاقہ مستی اور محنت ہاں ن تسکیں تیموں ، بے سہاروں میں وہی بندہ مزدور میں بشکل امتحاں سرمایا داروں میں وہی ہے تخیل میں، تصور میں وہ اڑتا گھومتا درد کی تاثیر شاعر کے اشاروں میں وہی خندہ زن ہے پھول میں پہنے ہوئے رنگیں قبا نالہ زن بلبل کی صورت شاخساروں میں وہی ہے وہی اسلام کے نغموں میں مانند سرور سوز کی صورت ہے سازِ دل کے تاروں میں وہی