حمد و مناجات

by Other Authors

Page 27 of 171

 حمد و مناجات — Page 27

27 نسل انساں میں نہیں دیکھی وفا جو مجھ میں ہے تیرے بن دیکھانہیں کوئی بھی یار غم گسار اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم جن کا مشکل ہے کہ تا روز قیامت ہو ھمار آسماں میرے لئے تو نے بنایا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک و تار تو نے طاعوں کو بھی بھیجا میری نصرت کے لئے تا وہ پورے ہوں نشاں جو ہیں سچائی کا مدار وہ دیکھتا ہے غیروں سے کیوں دل لگاتے ہو جو کچھ بتوں میں پاتے ہو اس میں وہ کیا نہیں سورج پہ غور کر کے نہ پائی وہ روشنی جب چاند کو بھی دیکھا تو اس یار سا نہیں واحد ہے لاشریک ہے اور لازوال ہے سب موت کا شکار ہیں اس کو فنا نہیں (درین صفحه 149) سب خیر ہے اسی میں کہ اُس سے لگاؤ دل ڈھونڈو اُسی کو یارو بتوں میں وفا نہیں اس جائے پُر عذاب سے کیوں دل لگاتے ہو دوزخ ہے یہ مقام یہ بستاں سرا نہیں ( در شین صفحه 186)