حمد و مناجات — Page 136
136 میر محمدی میں اور ماہ احمدی میں واں ہے جلال تیرا یاں ہے جمال تیرا رو دہریت کی ہر سُو دنیا میں چل رہی تھی لیتا تھا نام کوئی بس خال خال تیرا اسلام کی دوبارہ کی تو نے آبیاری چمکا وہ زنده پامال ہو رہا تھا نونہال تیرا برق ہو کر کڑکا وہ رعد بن کر برسا گرج گرج کر امر نوال تیرا نشان آیا زنده خدا دکھایا ہر دل میں پھر بٹھایا نقش خیال تیرا وہ نفخ صور جس سے جاگ اُٹھے سب مذاہب ہر اک ہو رہا ہے جویائے حال تیرا پر تو نگن نہ ہووے جب تک وہ بدر کامل ہو نا تمام مظہر کسب کمال تیرا (الفضل 6 اگست 1925ء)