ہماری تعلیم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 41

ہماری تعلیم — Page 31

ہے۔تم تو بہ کی بیعت کر کے پھر گناہ پر قائم نہ رہو اور سانپ کی طرح مت بنو جو کھال اُتار کر پھر بھی ساپ ہی رہتا ہے موت کو یاد رکھو کہ وہ تمہارے نزدیک آتی جاتی ہے اور تم اُس سے بے خبر ہو۔کوشش کرو کہ پاک ہو جاؤ کہ انسان پاک کو تب پاتا ہے کہ خود پاک ہو جاوے۔پاک ہونے کا ذریعہ وہ نماز ہے جو تطرح سے ادا کی جائے مگر تم اس نعمت کو کیونکر پاسکو اس کا جواب خود خدا نے دیا ہے جہاں قرآن میں فرماتا ہے وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة یعنی نماز اور صبر کے ساتھ خدا سے مدد چاہو نماز کیا چیز ہے وہ دعا ہے جو تسبیح تحمید تقدیس اور استغفار اور درود کے ساتھ تضرع سے مانگی جاتی ہے۔سو جب تم نماز پڑھو تو بے خبر لوگوں کی طرح اپنی دعاؤں میں صرف عربی الفاظ کے پابند نہ رہو کیونکہ ان کی نماز اور ان کا استغفار سب رسمیں ہیں جن کے ساتھ کوئی حقیقت نہیں لیکن تم جب نماز پڑھو تو بجز قرآن کے جو خدا کا کلام ہے اور بجز بعض ادعیہ ماثورہ کے کہ وہ رسول کا کلام ہے باقی اپنی تمام عام دعاؤں میں اپنی زبان میں ہی الفاظ متضر عانہ ادا کر لیا کروتا ہو کہ تمہارے دلوں پر اُس عجز و نیاز کا کچھ اثر ہو۔۔۔نماز میں آنے والی بلاؤں کا علاج ہے تم نہیں جانتے کہ نیا دن چڑھنے والا کس قسم کے قضاءو البقره، ۴۶:۲ 31