ہماری تعلیم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 41

ہماری تعلیم — Page 22

الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی ہمیں اپنی اُن نعمتوں کی راہ دکھلا جو پہلوں کو دکھلائی گئی۔جو نبی اور رسول اور صدیق اور شہید اور صالح تھے پس اپنی ہمتیں بلند کر لو اور قرآن کی دعوت کو ر مت کرو کہ وہ تمہیں وہ نعمتیں دینا چاہتا ہے جو پہلوں کو دی تھیں۔۔۔بلکہ خدا کا تمہاری نسبت اِن سے زیادہ فیض رسانی کا ارادہ ہے خدا نے اُن کے روحانی جسمانی متاع و مال کا تمہیں وارث بنایا مگر تمہار اوارث کوئی دوسرا نہ ہو گا جب تک کہ قیامت آ جاوے خدا تمہیں نعمت وحی اور الہام اور مکالمات اور مخاطبات الہیہ سے ہر گز محروم نہیں رکھے گا وہ تم پر وہ سب نعمتیں پوری کرے گا جو پہلوں کو دی گئیں لیکن جو شخص گستاخی کی راہ سے خدا پر جھوٹ باندھے گا اور کہے گا کہ خدا کی وحی میرے پر نازل ہوئی حالانکہ نہیں نازل ہوئی اور یا کہے گا کہ مجھے شرف مکالمات اور مخاطبات الہیہ کا نصیب ہوا حالانکہ نہیں نصیب ہوا تو میں خدا اور اس کے ملائکہ کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ وہ ہلاک کیا جائے گا کیونکہ اُس نے اپنے خالق پر جھوٹ باندھا اور فریب کیا۔۔۔۲۔سنت کا تشریحی مقام دوسر ا ذریعہ ہدایت کا جو مسلمانوں کو دیا گیا ہے سنت ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی کارروائیاں جو آپ نے قرآن شریف کے احکام کی تشریح کے لئے کر کے دکھلائیں مثلاً قرآن شریف میں بظاہر نظر پنجگانہ نمازوں کی رکعات معلوم نہیں الفاتحہ، ۷،۶:۱ 22