ہماری کہانی — Page 80
A۔جَاءَكُمْ بُرْمانَ مِنْ رَبِّكُمْ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُوراً مبينا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا باللهِ وَاعْتَهُمُوا بِهِ نَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَفَضْلٍ وَيَهْدِ لَهُمْ إِلَيْهِ صِرَاطًا مستقيما ( النساء : (۱۷۵ (144) كتُبُ أَنْزَلْتُهُ إِلَيْكَ مُبْرَك لِيَدَ بُرُوا اتِهِ وَلِيَتَذَكَرَ اُولُوا الْأَلْبَابِ (ص : ۳۰) اس کے بر خلاف بزنیم خود یہ سوال پیش کر دیا جاتا ہے کہ پانچ وقت کی نماز کی تفصیل اس میں کہاں ہے۔تفصیل وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ تفصیل کہتا ہے اور یہ جسے تفصیل کہتے ہیں وہ تفصیل نہیں بلکہ يَبْغُونَهَا عِوَجًا ہے۔یہ سوال دراصل دھوکہ دینے کو کیا جاتا ہے ورنہ ہر ایک نماز فرائض سنن نوافل سب کچھ اس کے اندر ہے اور یہ سوال جو کرتے ہیں اس کا تعلق لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ اُسوہ حسنہ سے ہے جو تو اتر اور سنت سے ثابت ہے۔حدیثیں دراصل شارح ہیں نہ کہ تفصیل اور اطیعوالرسول کے ماتحت صحیح حدیث جہاں بھی ملے قابل عمل ہے مگر یہ بھی یاد رہے کہ حدیثوں کا مالک یہ بھی کہہ گیا ہے کہ میری کوئی حدیث قرآن کے خلاف ہو نہیں سکتی اور اگر ایسی ہو تو وہ میری نہیں کرتا اور باطل ہے۔پھر یہ بھی معلوم ہے کہ حدیشی ڈیڑھ سو برس کے بعد جمع کی گئیں ہیں۔پھر یہ بھی معلوم ہے کہ لاکھوں حدیثیں وصنع کی گئی تھیں جن میں سے بہت کچھ انسانی کوششوں نے چھان بین کر کے چھانٹی ہیں مگر پھر بھی وہ قرآن کریم پر حکم نہیں ہو سکتیں جس کی حفاظت کا وعدہ قیامت تک کیلئے اللہ تعالیٰ نے کیا ہے مگر حدیثوں کی حفاظت کا وعدہ نہ تو اللہ تعالیٰ نے کیا ہے نہ اس کے رسول نے۔ہاں البتہ چند چھوٹی سچی حدیثوں پر یہ سر پھٹول اور فرقہ بندی ہے جس سے منع کیا گیا تھا۔اب جن کی پیروی کی مجبوری آپ بتا تے ہیں اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا حکم سن لیجئے۔اِذَنَبَرا الَّذِينَ اتَّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَارُ الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُو لَوَان