ہمارا خدا — Page 211
قانون نیچر اور قانون شریعت میں امتیاز کرنا ضروری ہے سو جاننا چاہئے کہ یہ اعتراض صرف اس وجہ سے پیدا ہو ا ہے کہ معترضین نے ان دو قسم کے قوانین پر پوری طرح غور نہیں کیا جو خدا کی طرف سے اس دُنیا میں جاری ہیں اور یہی سمجھ رکھا ہے کہ دُنیا کا سارا کاروبار ایک ہی قانون کے ماتحت چل رہا ہے۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے اور حق یہ ہے کہ خُدا کی طرف سے دُنیا میں دو مختلف قانون جاری ہیں۔ایک قانون نیچر ہے جو نظامِ عالم کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور سلسلہ اسباب و علل اور خواص الاشیاء کے ماتحت جاری ہے اور جس کے اثرات و نتائج اسی دُنیا میں ساتھ ساتھ رونما ہوتے جاتے ہیں۔دوسرا قانونِ شریعت ہے جو انسان کے اخلاق وروحانیات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور انبیاء و مرسلین کے ذریعہ دنیا میں نازل ہوتا رہا ہے اور جس کی جزا سزا کے لئے بعد الموت کا وقت مقرر ہے اور مندرجہ بالا اعتراض ان دو قانونوں کے مخلوط کر دینے اور ان کے صحیح امتیاز کو لوظ نہ رکھنے کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے۔قانونِ نیچر کیا ہے؟ قانونِ نیچر یہ ہے کہ دُنیا کی ہر چیز اور ہر بات اور ہر حرکت اور ہر سکون اور ہر مفرد اور ہر مرکب میں ایک معین فطری تاثیر رکھی گئی ہے جو اس کے طبعی نتیجہ کے طور پر ظاہر ہوتی رہتی ہے۔مثلاً یہ بات قانون نیچر کا حصہ ہے کہ سنکھیا میں جاندار چیز کے مار دینے کی خاصیت ہے اور جب بھی اور جہاں بھی سنکھیا کسی جاندار چیز کے اندر اس مقدار میں جائے گا جو اسے مار دینے کے لئے کافی ہے تو اُس کا طبعی نتیجہ رونما ہو گا سوائے اس کے کہ قانون نیچر کا ہی کوئی دوسرا قانون جو اس کے اثر کے مٹانے کے لئے مقرر ہے دخل انداز ہو کر اس کے اثر کو مٹا دے۔اسی طرح یہ بات قانونِ نیچر کا حصہ ہے کہ اگر کوئی چھت کمزور اور بودی ہوگی تو کسی ایسے وقت جب کہ اس کی کمزوری اس حد کو پہنچ جائے کہ وہ قائم نہ رہ سکے وہ گر جائے گی۔اور یہ بات بھی اسی قانونِ نیچر کا 211