ہمارا آقا ﷺ — Page 50
ہمارا آقاعل الله 50 (10) مقدس لڑکے کی پہلی دعا اب یتیم بچہ اپنے چچا کے پاس رہنے لگا۔چچانے فی الحقیقت اپنے بچوں سے زیادہ اُس کی دلجوئی کی۔ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے۔جہاں تک اُن سے بنتا اس کے آرام و راحت کا خیال رکھتے اور کوئی بات کبھی اس کی مرضی کے خلاف نہ کرتے۔بھتیجے کی عادتیں ایسی اعلیٰ درجہ کی اور اتنی پاکیزہ تھیں کہ ابو طالب دیکھ دیکھ کر حیران ہوتے تھے۔اُن کو نہ صرف بھتیجے سے محبت تھی بلکہ اُن کے دل میں اُس کی بزرگی کا بھی سکہ بیٹھا ہوا تھا۔چنانچہ کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ مکہ میں سخت قحط پڑا کیونکہ بارش نہ ہوئی تھی اور ایک قطرہ بھی آسمان سے نہ برسا تھا۔مکہ والے نہایت پریشان ہوئے کہ کیا کریں۔ابوطالب نے اس موقع پر اپنے بھتیجے سے کہا کہ :۔”میاں لوگ پانی کے بغیر بے حد مضطرب ہیں۔تمہارا دل معصوم اور زبان پاک ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری زندگی بڑی عجیب زندگی ہے۔شہر والوں کو ساتھ لے جاؤ اور جنگل میں جا کر پانی کے لئے خدا سے دعا مانگو۔“