حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 61

حمامة البشرى ۶۱ اردو ترجمه ولتفكروا في رأس المأة وضرورة اور صدی کے سر اور اللہ و رسول کے وعدہ کے المجدد بما وعد الله ورسوله مطابق مجدد کی ضرورت میں بھی فکر کرتے بقية الحاشية ـ والـعـجـب من قومنا أنهم بقیہ حاشیہ۔اور ہماری قوم پر تعجب ہے کہ وہ بخاری وغیرہ كانوا يقرأون فى البخاري وغيره من میں پڑھتے تھے کہ مسیح موعود اسی اُمت میں سے ہوگا اور الصحاح أن المسيح الموعود من هذه الأمة انہیں میں سے ان کا امام ہوگا پھر طرفہ یہ کہ آنحضرت صلی وإمامهم منهم، ولا يجيء نبى بعد رسول اللہ اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی رسول بھی نہیں آ سکتا کیونکہ وہ صلى الله عليه وسلم وهو خاتم النبيين، وما خاتم النبیین ہیں اور قرآن کی تکمیل کے بعد اس کو کوئی كان لأحد أن ينسخ القرآن بعد تكميله، ثم منسوخ بھی نہیں کر سکتا۔لیکن انہوں نے جو کچھ پڑھا سیکھا نسوا كل ما علموا وعرفوا واعتقدوا وضلوا اور مانا ہوا تھا سب بھلا دیا اور خود بھی گمراہ ہوئے اور بہت سے جاہلوں کو بھی گمراہ کیا۔وأضلوا كثيرًا من الجاهلين۔وأما الاختلافـات التـي تـوجــد فـي هـذه اور ان احادیث میں جو اختلاف ہے اس کی تفصیل اس الأحاديث فلا يخفى على مَهَرَةِ الفنّ تفصيلها، فن کے ماہروں پر پوشیدہ نہیں ہے اور ہم نے کچھ کچھ اپنے وقد ذكـرنـا شـطـرا منها في رسالتنا الإزالة، رسالہ ازالہ اوہام میں بیان کیا ہے۔طالب حق کو چاہئے کہ فليرجع الطالب إليها۔وقد جاء فی حدیث ان اُس کا مطالعہ کرے اور بعض حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح اور المسيح والمهدى يجيئان في زمن واحد، وجاء مہدی ایک ہی زمانہ میں آویں گے اور بعض میں ہے کہ في حديث آخر أنه لا مهدى إلا عيسى، وجاء عیسی کے سوا اور کوئی مہدی نہیں ہے اور بعض میں آیا ہے کہ في حديث أن المسيح والمهدى يتلاقيان مسیح اور مہدی ملاقات کریں گے اور خلافت کے بارہ میں ويشاور المهدى المسيح في مهمات الخلافة، مہدی مسیح سے مشورہ لیں گے اور ان دونوں کا ایک ہی ويكون زمانهما زمانًا واحدًا۔وفي حديث آخر زمانہ ہوگا اور بعض میں یوں آیا ہے کہ مہدی تو اس اُمت أن المهدى يُبعث في وسط قرون هذه الأمة کے درمیانی زمانہ میں آوے گا اور مسیح اس کے آخر میں والمسيح ينزل في آخرها، وفي حديث من آئے گا اور حدیث بخاری میں آیا ہے کہ میسج حکم عدل ہو کر البخارى أن المسيح يجيء حكمًا عدلا فيكسر آئے گا اور صلیب کو توڑے گا یعنی صلیب پرستوں کے غلبہ الصليب۔۔يعني يجيء في وقت غلبة عبدة کے وقت آئے گا اور صلیب کی شوکت کو توڑے گا۔اور الصليب فيكسر شوكة الصليب ويقتل خنازير نصاری کے خنزیروں کو قتل کرے گا۔اور دوسری حدیث میں النصارى۔وفي حديث آخر أنه يجيء في وقت آیا ہے کہ جب دجال روئے زمین پر غالب ہو جاوے گا تو غلبة الدجال على وجه الأرض فيقتله بحربته تب آوے گا، اور اُس کو اپنے حربہ کے ساتھ قتل کرے گا۔