حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 301

حمامة البشرى ۳۰۱ اردو ترجمه وإلى ذلك إشارة في قراءة ابن عباس اور اسی کی طرف ابن عباس کی قراءت وَمَا أَرْسَلْنَا وما أرسلنا من رسول ولا نبى ولا مِنْ رَّسُولٍ وَلَا نَبِي وَلَا مُحَدَّثِ میں اشارہ محدث، فانظر كيف أُدخل الرسل ہے۔پس غور کر کس طرح رسولوں اور نبیوں اور والنبيون والمحدثون في هذه القراءة محدّثوں کو اس قراءت میں ایک شان میں داخل کر في شأن واحد، وبين الله أن كلّهم لیا گیا ہے۔اور اللہ نے واضح فرما دیا ہے کہ یہ سب من المحفوظين ومن المرسلين۔کے سب محفوظ ہیں اور فرستادہ ہیں۔ولا شك أن التحديث موهبة بے شک محد ثیت ایک خالص موہبت ہے جو مجردة لا تنال بكسب البتة۔۔شانِ نبوت کی طرح محض کسب کے ذریعہ حاصل کماهو شأن النبوة، ويُكلّم نہیں ہوتی۔اللہ محدثین سے اُسی طرح کلام الله المحدثین کما یکلّم کرتا ہے جس طرح وہ نبیوں سے کلام کرتا ہے يُكلّم النبيين، ويرسل المحدثین اور محدثوں کو اسی طرح مبعوث فرماتا ہے جس كما يرسل الرسل، ويشرب طرح وہ رسولوں کو مبعوث فرماتا ہے اور محدّث المحدث من عين يشرب اُس چشمے سے پیتا ہے جس سے نبی پیتا ہے۔فيها النبي، فلا شك أنه نبی پس بلا شبہ وہ (محدث) نبی ہوتا اگر یہ دروازہ بند لولا سد الباب، وهذا هو السر نہ ہوتا۔اور یہی وہ راز ہے جو رسول اللہ علی في أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے (حضرت) عمر فاروق کا نام محدَّث رکھا وسلم إذا سمـى الـفـاروق محدثا ہے۔پس آپ علیہ نے اپنے (مذکورہ) قول ا فقفى على أثره قوله لو كان کے بعد فرمایا لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرٍ بعدى نبى لكان عمر، وما كان يعنى میرے علاوہ اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔هذا إلا إشارة إلى أن المحدث اور یہ اس بات ہی کی طرف اشارہ تھا کہ محدث يجمع كمالات النبوة في نفسه اپنی ذات میں کمالات نبوت جمع رکھتا ہے