حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 295 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 295

حمامة البشرى ۲۹۵ اردو ترجمه ويجذب قلبهم وروحهم وشوقهم اور اُن کا دل اُن کی روح اور اُن کا شوق مولیٰ کریم إلى المولى، وإلى رزق يزيد لهم كى طرف اور اُس رزق کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے جو يقينًا ومعرفة ويدخلهم في أنہیں یقین اور معرفت میں آگے بڑھاتا ہے اور انہیں الواصلين۔ولا يريدون الدنيا واصل باللہ لوگوں میں داخل کرتا ہے۔اور وہ دنیا وشهواتها ولذاتها، وما كان أعظم اور اس كى شہوات ولذات کی خواہش نہیں کرتے۔مراداتهم الدنيا ولا أن يأكلوا اور اُن کی سب سے بڑی مراد دنیا نہیں ہوتی۔اور نہ ويشربوا ويتلفوا أعمارهم في یہ کہ وہ کھائیں، پئیں اور اپنی زندگیوں کو کھانا چبانے الخصم والقضم، ويعيشوا اور چٹخارے لینے میں ضائع کر دیں اور آسودہ حال كالمترفين۔فالرزق الذي هو مُراد لوگوں کی طرح زندگی گزاریں۔پس وہ رزق جو رجال أُولى التقوى إنما هو فيوض صاحب تقویٰ لوگوں کا مقصود و مطلوب ہوتا ہے۔وہ الغيب من الكشف والإلهام صرف كشف، الہام اور مکالمہ ومخاطبہ کے غیبی فیوض والمخاطبات، ليبلغوا مراتب ہیں تا کہ وہ جملہ مراتب یقین تک رسائی حاصل کر ہو اليقين كلها، ويدخلوا فی عباد الله لیں۔اور اللہ کے عارف بندوں میں داخل العارفين۔فقد وعد الله لهم وقال جائیں۔پس اللہ نے اُن سے وعدہ کیا ہے اور فرمایا مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا۔ہے کہ مَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا۔وَ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ، يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ ہے اور وہ لوگ جو وأما الذين يظنون أن الرزق منحصر یہ خیال کرتے ہیں کہ رزق جسمانی نعمتوں تک في التنعمات الجسمانية، فقد أخطأوا محدود ہے تو اُنہوں نے بہت بڑی غلطی کھائی ہے تو خطأ كبيرًا، وما تدبّروا في القرآن اور اُنہوں نے قرآن پر اس طرح غور نہیں کیا جیسے حق التدبر، وكانوا من الغافلين۔غور کرنے کا حق ہے اور وہ غافلوں میں سے ہیں۔ے جو اللہ سے ڈرے اُس کے لئے وہ نجات کی کوئی راہ بنا دیتا ہے۔اور وہ اُسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کر سکتا۔(الطلاق: ۴۳)