حَمامة البشریٰ — Page 236
حمامة البشرى ۲۳۶ اردو ترجمه كما تشير إليه الآيات المتقدمة، والله جيسا كه مذكورۃ الصدر آیات اس کی جانب اشارہ کرتی أدخل وجود الملائكة في الإيمانيات ہیں۔اور اللہ نے فرشتوں کے وجود کو ایمانیات میں داخل کیا ہے جیسے اُس نے اپنی ذات کو ان میں داخل كما أدخل فيها نفسه وقال وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ کیا ہے اور فرمایا ہے ” وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَكَةِ وَالْكِتَبِ وَالنَّبِينَ ،، الْآخِرِ وَالْمَلَكَةِ وَالْكِتُبِ وَالنَّبِينَ ، وقال وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبَّكَ إِلَّا هُوَ نیز فرمایا لَهُ وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ ل پس اُس نے تمام لوگوں پر یہ واضح کر دیا ہے کہ۔فبين للناس أن حقيقة الملائكة فرشتوں کی حقیقت اور اُن کی صفات کی حقیقت عقل وحقيقة صفاتهم متعالية عن طور کی حدود سے بالا ہے اور اس (حقیقت) کو صرف اللہ العقل، ولا يعلمها أحد إلا الله، فلا ہی جانتا ہے۔پس تم اللہ اور اُس کے فرشتوں کے تضربوا الله ولا لملائكته الأمثال لئے مثالیں بیان نہ کرو اور اُس کی جناب میں وأتوه مسلمين۔فرمانبرداری کرتے ہوئے حاضر ہو جاؤ۔وأنت تعلم أن كل مسلم اور تو جانتا ہے کہ ہر مسلمان مومن یہ عقیدہ مؤمن يعتقد أن الله ينزل إلى رکھتا ہے کہ اللہ تعالی عرش پر موجود اور متمکن السماء الدنيا في الثلث الآخر من ہونے کے باوجود رات کے آخری ثلث میں (۱۵) الليل مع وجوده و استوائه على سماء الد نیا پر نازل ہوتا ہے پھر بھی اس عقیدے العرش، ولا يتوجه إليه لومُ لائم کی وجہ سے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت ولا طعن طاعن لأجل هذه العقيدة اور طعن کرنے والے کا طعن اُس کی طرف رُخ بل المسلمون قد اتفقوا عليها نہیں کرتا، بلکہ تمام مسلمان اس پر متفق ہیں۔اور وما حاجهم أحد من المؤمنين۔مومنوں میں سے کسی نے اُن سے جھگڑا نہیں کیا۔لے بلکہ نیکی اسی کی ہے جو اللہ پر ایمان لائے اور یوم آخرت پر اور فرشتوں پر اور کتاب پر اور نبیوں پر۔(البقرۃ: ۱۷۸) ے اور تیرے رب کے لشکروں کو کوئی نہیں جانتا مگر وہی۔(المدثر :۳۲)