حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 192

حمامة البشرى ۱۹۲ اردو ترجمه ولولا كان الإنعام والإيلام و اصلا اور اگر انعام اور دکھ پانا میت کو محض اپنی موت کے إلى الميت بمجرد موته فما معنی ساتھ ہی پہنچنے والا نہ ہوتا تو پھر اس کے حق میں قيام القيامة في حقه؟ وإذا أقررنا قیامت کے قائم ہونے کے کیا معنی؟ اور جب ہم نے بأن الميت يُعذِّب أو يُنعم عليه بعد يا اقرار کر لیا کہ میت کو موت کے بعد بلا توقف عذاب یہ الموت من غير توقف، فقد لزمنا دیا جائے گا یا اس پر انعام کیا جائے گا تو پھر ہم پر یہ لازم آتا ہے کہ ہم یہ اقرار کریں کہ جہنم کا عذاب اور أن تقر بأن عذاب جهنم وإنعام جنت کا انعام مجرد واقعہ موت کے ساتھ بلا توقف ظاہر الجنّة يبدو بمجرد واقعة الموت ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ احادیث میں آیا ہے کہ من غير مكث، ولأجل ذلك جاء ” مومنوں کی سب سے کم تر نعمت قبر میں یہ ہوگی کہ في الأحاديث أن أدنى نعيم جنت ان کے قریب کر دی جائے گی اور جنت کے المؤمنين في القبر أن الجنّة تُزلف لهم، وتُفتح له غرفة من غرفاتها، فيأتيهم في كل وقت بالا خانوں میں سے ایک بالا خانہ ان کے لئے کھولا جائے گا۔جس کے نتیجہ میں انہیں ہر وقت اس بالاخانہ سے جنت کی ہوا اور اس کی خوشبو آئے گی اور (۵۶) روحُ الجنة وريحــانـهـا من هذه قبر میں کافر کا سب سے کم تر عذاب یہ ہوگا کہ جہنم الغرفة، وان أدنى عذاب الكافر اس کے سامنے نمایاں طور پر ظاہر ہو جائے گی اور اس في القبر أن تُبرز الجحيم له وتفتح کا ایک گڑھا اس کے لئے کھول دیا جائے گا۔جس له حفرة منها، فيأتيه في كل وقت کے نتیجہ میں اُسے ہر وقت اس گڑھے سے آگ لظى النار من تلك الحفرة۔ويوسع كے شعلے آئیں گے۔اور اللہ اپنے فضل اور وسیع الله للمؤمنين بفضله ورحمته رحمت سے اپنے مومن بندوں کے لئے جنت کے الوسيعة غرفة الجنة من خيرات أس بالا خانہ کو کشادہ کرتا جائے گا ( ان کی ) جاری جارية وباقيات صالحات ترکها رہنے والی نیکیوں اور باقیات الصالحات کی وجہ المؤمن لنفسه في الدنیا سے جنہیں مومن نے اپنے لئے دنیا میں چھوڑا۔