حضرت حفصہ ؓ — Page 7
آپ ﷺ نے فرمایا من یعنی بس بس جیسے ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ چُپ بھی کر، وہ آیت کہاں گئی کہ تم ننجى الَّذِينَ اتَّقَوْا ونَذَرُ الظَّلِمِينَ فِيهَا OL ” پھر ہم متقیوں کو بچالیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل أَيَّاه کرے ہوئے چھوڑ دیں گے۔" حضرت حفصہ نے سورہ مریم کی آیت نمبر 71 پڑھی تھی آپ علیہ نے آیت نمبر 72 بیان فرما کر مسئلہ حل کر دیا۔حضرت حفصہ رضی الله علما نزول وحی کے وقت بعض آیات لکھ لیتی تھیں یہ اعزاز بھی آپ کو حاصل ہے کہ آنحضرت نے جو قرآن پاک لکھوایا کرتے تھے اُس کی تختیاں آپ کے پاس رکھوا دی جاتیں۔جو آپ بہت حفاظت اور پیار سے رکھتیں اور ساتھ حفظ کر لیتیں (10) آپ نے آنحضرت ﷺ سے یہ بشارت سکی تھی کہ جو شخص قرآن کریم کو حفظ کر لے گا قیامت کے دن قرآن اس کو دوزخ میں جانے سے بچائے گا حضرت حفصہ کو نہ صرف قرآن پاک جمع کرنے اور حفظ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی بلکہ اس کی حفاظت کا موقع بھی ملا۔وہ اس طرح کہ حضرت ابو بکر کے زمانہ میں حفاظت کی غرض سے قرآن کریم کے لکھے ہوئے الگ الگ ٹکڑوں کو ایک جلد میں جمع کیا گیا تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنھا سے بھی مشورہ کیا جاتا اور یہ جلد کیا ہوا قرآن مجید بھی حضرت حفصہ رضی اللہ علما کے پاس ہی رکھوایا گیا۔