حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 71 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 71

71 ثُمَّ قَالَ البَرمُوا وَرَبٍ مُحمدٍ قَالَ فَذَهَبْتُ أَنْظُرْ فَإِذَا الْقِتَالُ عَلَى هَيْئَتِهِ فِيمَا أَرَى، قَالَ فَوَ اللهِ، مَا هُوَ إِلَّا أَن رَمَاهُمْ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَى حَذَهُمْ كَلِيلًا، وَأَمْرَهُمْ مُديرًا (صحیح مسلم كتاب الجهاد والسير باب في غزوة حنين 3310 ) حضرت عباس بیان کرتے ہیں کہ میں حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ ظلم کے ساتھ تھا۔میں اور ابوسفیان بن حارث بن عبد المطلب رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ ساتھ رہے اور آپ سے علیحدہ نہ ہوئے۔رسول اللہ صلی ا ہم اپنی سفید خچر پر جو آپ کو فروہ بن نفاشہ جذامی نے تحفہ دیا تھا سوار تھے جب مسلمانوں اور کفار کی مٹھ بھیڑ ہوئی تو مسلمانوں نے پیٹھ پھیر لی۔رسول اللہ صلی علی کریم نے اپنی خچر کو کفار کی طرف تیزی سے برابر بڑھاتے رہے۔حضرت عباس کہتے ہیں۔میں رسول اللہ صلی علیم کی فیچر کی لگام پکڑے ہوئے اسے تیز چلنے سے روک رہا تھا اور ابو سفیان رسول اللہ صلی ایم کی رکاب پکڑے ہوئے تھے۔رسول اللہ صلی للی یکم نے فرمایا اے عباس اصحاب سمرہ کو بلاؤ۔عباس کہتے ہیں۔اور وہ بلند آواز آدمی تھے۔میں نے بلند آواز سے کہا اصحاب سمرہ کہاں ہیں ؟ وہ کہتے ہیں اللہ کی قسم ! جب انہوں نے میری آواز سنی تو گویا ان کا لوٹنا ایسے تھا جیسے گائے اپنے بچوں کی طرف (شفقت کی وجہ سے ) جاتی ہے۔انہوں نے کہا لبیک لبیک پھر وہ کفار سے لڑے اور انصار کو یہ کہتے ہوئے بلایا! اے گر وہ انصار ! وہ کہتے ہیں پھر یہ پکار ، بنی حارث بن خزرج پر جا ٹھہری اور انہوں نے کہا اے بنی حارث بن خزرج ! اے بنی حارث بن خزرج! رسول اللہ صلی علیم نے گردن اُٹھا کر ان کی جنگ کا نظارہ کیا اور آپ اپنی خچر پر سوار تھے۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا یہ تنور کے جوش زن ہونے کا وقت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علی کریم نے کنکر پکڑے اور انہیں کفار کے چہروں کی طرف پھینکا۔پھر فرمایا محمد صلی الیکم کے رب کی قسم ! انہوں نے شکست کھائی۔(حضرت عباس ) کہتے ہیں میں دیکھنے لگا تو لڑائی ویسے ہی ہو رہی تھی جیسے میں دیکھتا تھا۔وہ کہتے ہیں اللہ کی قسم جو نہی آپ نے کنکریاں پھینکیں تو میں نے دیکھا کہ ان کی تیزی ماند پڑنے لگی اور ان کا معاملہ الٹنے لگا۔ا