حدیقۃ الصالحین — Page 813
813 حضرت عمر بن خطاب بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ ہم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے اپنے صحابہ کے اختلاف کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی۔اے محمد ! تیرے صحابہ کا میرے نزدیک ایسا مر تبہ ہے جیسے آسمان میں ستارے ہیں۔بعض بعض سے روشن تر ہیں۔لیکن نور ہر ایک میں موجود ہے۔پس جس نے تیرے کسی صحابی کی پیروی کی۔میرے نزدیک وہ ہدایت یافتہ ہو گا۔حضرت عمرؓ نے یہ بھی کہا کہ حضور صلی الی یم نے فرمایا کہ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں۔ان میں سے جس کی بھی تم اقتداء کرو گے، ہدایت پا جاؤ گے۔1003- عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، الله اللهَ فِي أَصْحَابِي، لا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِى، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُنِي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ أَذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذُهُ۔رسنن الترمذي ، كتاب المناقب، باب فى فضل من بايع تحت الشجر ة 3862) حضرت عبد اللہ بن مغفل بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا میرے صحابہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے خوف سے کام لینا، انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنانا۔جو شخص ان سے محبت کرے گا تو وہ دراصل میری محبت کی وجہ سے کرے گا۔اور جو شخص ان سے بغض رکھے گا در اصل وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا۔جو شخص ان کو دکھ دے گا اس نے مجھ کو دکھ دیا اور جس نے مجھے دکھ دیا اس نے اللہ کو دکھ دیا۔اور جس نے اللہ کو دکھ دیا اور ناراض کیا تو ظاہر ہے وہ اللہ کی گرفت میں ہے۔