حدیقۃ الصالحین — Page 786
786 اللہ سبحانہ وتعالی کا بشر سے کلام کرنا کبھی تو روبرو ہوتا ہے اور یہ افراد انبیاء میں سے ہوتے ہیں اور کبھی یہ انبیاء کے متبعین میں سے کامل افراد کے ساتھ ہوتا ہے۔اور جب کسی شخص کے ساتھ اس نوعیت کے کلام میں کثرت پیدا ہو تو وہ محدث کہلاتا ہے۔- ۳) فالنَّبِيُّ الذي لَا شَرْعَ لَهُ فِيمَا يُوحَى إِلَيْهِ بِهِ رَأْسُ الْأَوْلِيَاء۔۔۔۔و هَؤُلَاءِ هُمُ الْأَنْبِيَاءُ الأَوْلِيَاءُ وَأَمَّا الْأَنْبِيَاءُ الذِينَ لَهُمُ اللوائح فَلَا بُدَّ مِن تَدَالِ الْأَزْوَاجِ عَلَى قُلُوبِهِمُ بِالأَمْرِ وَالنَّهِي - (فتوحات مكية باب الثالث والسبعون في معرفة عدد ما يحصل من الاسرار ، السوال السابع والخمسون ، جلد 2صفحہ78) اور وہ نبی جن کے ساتھ ان کے الہامات میں شریعت نہیں ہوتی وہ راس الاولیاء ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔یہ لوگ انبیاء الاولیاء ہوتے ہیں۔اور جن انبیاء کے ساتھ شریعت ہوتی ہے۔ضروری ہے کہ ان کے قلوب پر جبریل اور فرشتے امر و نہی لے کر نازل ہوں۔م) - فانه يَسْتَحِيلُ أَنْ يَنْقَطِعَ خَبْرُ اللهِ وَ أَخْبَارُهُ مِنَ الْعَالَمِ إِذْ لَوِ انْقَطَعَ لَمْ يَبْقَ لِلْعَالَمِ غِذَا يَتَعَلى بِهِ في بَقَاءُ وَجُودِه (فتوحات مكيه ، باب الثالث والسبعون في معرفة عدد ما يحصل من الاسرار۔۔۔، السوال الثالث و الثمانون ، ما النبوة ، جلد 2 صفحه 89) یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عالم کے لئے اخبار منقطع ہو جائیں۔کیونکہ اگر یہ منقطع ہو جائیں تو کائنات کے وجود کی بقاء کے لئے (روحانی) غذا باقی نہیں رہے گی۔