حدیقۃ الصالحین — Page 782
782 وَالْعَسَلِ، فَهُوَ الْقُرْآنُ لِينُهُ وَحَلَاوَتُهُ، وَأَمَّا الْمُسْتَكْثِرُ، وَالْمُسْتَقِلُ، فَهُوَ الْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ، وَالْمُسْتَقِلُ مِنْهُ، وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ فَهُوَ الْحَقُ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ: تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللهُ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ بَعْدَكَ رَجُلٌ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ، ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ، أَيْ رَسُولُ اللَّهِ لَتُحَذِ ثَنِي أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ، فَقَالَ أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا فَقَالَ أَقْسَمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لتحدثنِي مَا الَّذِى أخطأتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا تُقيم (سنن أبي داود كتاب السنة باب في الخلفاء (4632) حضرت عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللی کیم کے پاس ایک شخص آیا اور اپنا یہ خواب بیان کیا کہ میں نے ایک بادل کا ٹکڑا دیکھا اس میں سے تھی اور شہد برس رہا ہے اور لوگوں کو دیکھا کہ وہ ہاتھوں میں بھر رہے ہیں کوئی زیادہ لے رہا ہے اور کوئی کم، پھر میں نے دیکھا کہ آسمان سے زمین تک ایک رسی نما سیڑھی ہے اور حضور اس پر اوپر کی طرف چڑھ گئے ہیں پھر ایک اور شخص نے اس کو پکڑ لیا ہے اور وہ بھی اوپر چڑھ گیا ہے اس کے بعد ایک اور شخص نے اس کو پکڑا ہے اور اوپر چڑھ گیا ہے پھر تیسرے شخص نے اسے پکڑا لیکن دو ٹوٹ گئی پھر رہی جڑ گئی اور وہ شخص بھی اوپر چڑھ گیا۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا کہ حضور صلی للی یکم مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں۔حضور صلی اللہ کریم نے فرمایا اچھا بتاؤ۔ابو بکڑ نے کہا کہ بادل سے مراد اسلام ہے۔سمن اور عسل سے مراد قرآن کریم اور اس کی تلاوت ہے اور مستکثر سے مراد وہ ہے جو قرآن کریم کثرت سے پڑھتا ہے اور مستقل سے مراد وہ ہے جو کم پڑھتا ہے اور کم فائدہ اٹھاتا ہے اور وہ سیڑھی جو آسمان سے زمین کو ملاتی ہے وہ حق و صداقت کی سیڑھی ہے جس پر آپ ہیں پھر اللہ تعالی آپ صلی ٹیم کو اس کے ذریعہ بلند کرے گا اور آپ کی وفات کے بعد ایک اور شخص کے ذریعہ یہ سلسلہ ترقی کرے گا۔پھر ایک اور شخص اس رسی کو پکڑ کر اوپر چڑھ جائے گا اس کے بعد ایک اور شخص اس کو پکڑے گا تو