حدیقۃ الصالحین — Page 757
757 953 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ المُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَوْمًا بَيْنَ ظَهْرِي النَّاسِ المَسِيحَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ إِنَّ اللهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، أَلاَ إِنَّ المَسِيحَ الدَّجَالَ أَعْوَرُ العَيْنِ اليُمْنَى، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ - وَأَرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الكَعْبَةِ فِي المَنَامِ ، فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ ، كَأَحْسَنِ مَا يُرَى مِنْ أَدْمِ الرِّجَالِ تَضْرِبُ لِمَنْهُ بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ رَجِلُ الشَّعَرِ، يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقُلْتُ مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا هَذَا المسيحُ ابْنُ مَرْيَمَ، ثُمَّ رَأَيْتُ رَجُلًا وَرَاءَهُ جَعْدًا قَطِطًا أَعْوَرَ العَيْنِ اليُمْنَى كَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ بِابْنِ قَطَنٍ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلٍ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقُلْتُ مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا: المَسِيحُ الدَّجَّالُ (بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب قول اللہ و اذکر فی الکتاب مریم اذ انتبذت من اهلها (مریم (16) 3439، 3440) حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ) نے بیان کیا کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔آپ نے مسیح دجال کا ذکر کیا۔اور فرمایا اللہ کانا نہیں۔دیکھو ہوشیار رہنا۔مسیح دجال داہنی آنکھ سے کانا ہے۔اس کی آنکھ جیسے پھولا ہوا انگور کا دانہ ہوتا ہے۔اور آج رات خواب میں میں نے دیکھا کہ کعبہ کے پاس ہوں۔کیا دیکھتا ہوں کہ ایک گندم گوں شخص ہے ایسا ہی خوبصورت جیسے گندمی رنگ کے لوگ نظر آتے ہیں۔اس کے بال کندھوں تک پہنچے تھے۔بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی۔اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔دو آدمیوں کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔میں نے پوچھا: یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ مسیح ابن مریم ہیں۔پھر میں نے اس کے پیچھے ایک اور شخص چھوٹے لنگھریالے بالوں والا داہنی آنکھ سے کانا، جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سے عبد العزیٰ بن قطن سے بہت مشابہ تھا۔وہ بھی ایک شخص کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے بیت اللہ کا چکر لگا رہا تھا۔میں نے پوچھا: یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا مسیح دجال ہے۔