حدیقۃ الصالحین — Page 734
734 رسول اللہ صلی الم سے سنی ہو اور آپ اسے حضور کے علاوہ کسی کی طرف منسوب نہ کریں 1 تو انہوں نے کہا میں نے ایک پکارنے والے کی پکار سنی وہ رسول اللہ صلی الہام کا منادی تھا جو نماز کے لئے پکارتا تھا۔میں مسجد کی طرف نکلی اور رسول اللہ صلی علی نام کے ساتھ نماز پڑھی۔میں عورتوں کی اس صف میں تھی جو مردوں کے پیچھے تھی جب رسول اللہ صلی للی یکم نے نماز مکمل فرمالی تو منبر پر بیٹھ گئے اور آپ ہنس رہے تھے۔آپ نے فرمایا ہر شخص اپنی نماز کی جگہ پر ہی رہے پھر فرمایا تمہیں پتہ ہے کہ میں نے تمہیں کیوں اکٹھا کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا اللہ کی قسم میں نے تمہیں کسی چیز کی طرف رغبت دلانے یا ڈرانے کے لئے جمع نہیں کیا بلکہ میں نے تمہیں اس لئے اکٹھا کیا ہے کہ تمیم داری ایک عیسائی شخص تھا آیا، اس نے بیعت کی اور اسلام لایا اور اس نے مجھے اس سے ملتی جلتی بات بتائی جو میں تمہیں مسیح دجال کے بارہ میں بنایا کرتا تھا اس نے مجھے بتایا کہ وہ خم اور جذام کے تیس لوگوں کے ہمراہ ایک بحری جہاز میں سوار ہوا اور ایک ماہ تک سمندر کی موجیں ان سے کھیلتی رہیں پھر سمندر میں ایک جزیرہ کے قریب پہنچ گئے یہانتک کہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ پر پہنچ گئے۔پھر وہ چھوٹی کشتیوں پر بیٹھے اور جزیرہ میں داخل ہو گئے۔وہاں انہیں ایک بہت گھنے اور زیادہ بالوں والا چوپا یہ ملا۔زیادہ بالوں کی وجہ سے نہ اس کے آگے کا پتہ چلتا تھا نہ پیچھے کا۔انہوں نے کہا تیر ابھلا ہو تو کون ہے؟ اس نے کہا میں جساسہ ہوں۔انہوں نے کہا کیا ہے جساسہ ؟ اس نے کہا کہ تم اس آدمی کے پاس دیر میں چلے جاؤ وہ تمہارے بارہ میں جاننے کا مشتاق ہے۔جب اس نے ایک آدمی کا نام لیا تو ہم گھبر ائے کہ کہیں یہ شیطان ہی نہ ہو۔وہ کہتے ہیں ہم تیزی سے دیر کی طرف چل پڑے۔جب اس میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عظیم الخلقت انسان ہے جیسا ہم نے کبھی نہ دیکھا اور مضبوطی سے جکڑا ہوا، دونوں ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ اس کے گھٹنوں اور ٹخنوں کے درمیان لوہے کی زنجیروں) سے جکڑے ہوئے۔ہم نے کہا تمہارا بھلا ہو تم کون ہو ؟ اس نے کہا میرے بارہ میں تمہیں پتہ لگ ہی چکا ہے ، تم مجھے بتاؤ کہ تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا کہ ہم عرب کے کچھ لوگ ہیں جو ایک بحری جہاز میں سوار ہوئے دوران سفر ہم نے سمندر کو اس وقت پایا جب وہ جوش میں تھا۔موجیں ہم سے 1: بعض کے خیال میں یہ تمیم داری کی ایک رؤیا کا بیان ہے۔واللہ اعلم