حدیقۃ الصالحین — Page 722
722 ابو وائل کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت علیؓ نے کوفہ میں لوگوں سے خطاب کیا میں نے اسے سنا چنانچہ آپ فرمار ہے تھے ! اے لوگو! جو شخص تکلف سے فقر اپنائے وہ فقیر بن ہی جاتا ہے، جسے لمبی عمر دی گئی وہ ابتلاء کا شکار ہو اجو ย شخص آزمائش کے لئے تیار نہ ہوا تو وہ ابتلاء کے وقت صبر آزما نہیں ہو سکتا جو بادشاہ بنا وہ دولت جمع کرنے میں مشغول ہو ا جو شخص مشورہ نہیں لیتاوہ نادم ہو جاتا ہے ، اس کے بعد آپ فرمایا کرتے تھے ، عنقریب اسلام کا صرف نام ہی باقی رہے گا اور قرآن کے صرف نقوش ہی باقی رہیں گے اس لئے فرمایا کرتے تھے خبر دار ! کوئی شخص بھی علم حاصل کرنے میں حیاء محسوس نہ کرے جس سے کوئی ایسی بات پر بھی جائے جس کا اسے علم نہیں تو اسے چاہیے کہ وہ کہے ” لا اَعْلَمُ“ میں نہیں جانتا ہوں۔اس وقت تمہاری مساجد کی عمارتیں عالی شان ہوں گی حالانکہ تمہارے دل اور تمہارے اجسام ہدایت سے ویران ہوں گے اس وقت تمہارے فقہاء آسمان تلے بد ترین لوگ ہوں گے انہی سے فتنوں کا ظہور ہو گا اور انہی میں (فتنے لوٹیں گے۔وو 922 - تَكُونُ فِي أُمَّتِي قَزَعَةٌ فَيَصِيرُ النَّاسُ إِلَى عُلَمَائِهِمْ فَإِذَا هُمْ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ۔(کنز العمال حرف القاف كتاب القيامة - من قسم الأقوال الباب الأول في أمور تقع قبلها ، الفصل الرابع في ذكر اشراط الساعة الخسف والمسخ والقذف، الاكمال 38727) (رسول اللہ صلی الم نے فرمایا) میری امت میں سخت گھبراہٹ ہو گی لوگ اپنے علماء کے پاس جائیں گے تو کیا دیکھیں گے کہ وہ خنزیر اور بندر بن چکے ہیں۔(رسول اللہ صلی ایم نے فرمایا میری امت پر ایک زمانہ اضطراب اور انتشار کا آئے گا۔لوگ اپنے علماء کے پاس رہنمائی کی امید سے جائیں گے تو وہ انہیں بندروں اور سؤروں کی طرح پائیں گے یعنی ان علماء کا اپنا کر دار انتہائی خراب اور قابل شرم ہو گا۔)