حدیقۃ الصالحین — Page 672
672 حضرت نواس بن سمعان انصاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللی نیلم سے نیکی اور گناہ کے بارہ میں سوال کیا۔آپ نے فرمایا نیکی حسن خلق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے سینہ میں کھٹکے اور تو نا پسند کرے کہ لوگوں کو اس کا پتہ لگے۔عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ البِرِّ وَالإِثْمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ البِرُّ حُسْنُ الْخُلْقِ، وَالإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ (ترمذى كتاب الزهد باب ما جاء في البر والاثم (2389) حضرت نواس بن سمعان بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صل اللی کم سے نیکی اور گناہ کے بارہ میں پوچھا۔نبی ملی ٹیم نے فرمایا نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تجھے ناپسند ہو کہ لوگوں کو اس کا پتہ چلے اور تیری اس کمزوری سے وہ واقف ہوں۔859 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الكَبَائِرُ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَاليَمِينُ الغَمُوسُ (بخاری کتاب الايمان والنذور باب اليمين الغموس 6675) حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ نبی صلی ا یکم نے فرمایا بڑے گناہ یہ ہیں۔اللہ کا شریک ٹھہر انا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور جان کو مار ڈالنا اور عمد اجھوٹی قسم کھانا۔860- عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ ثَلَاتٌ هُنَّ أَصْلُ كُلِّ خَطِيئَةٍ فَاتَّقُوهُنَّ وَاحْذَرُوهُنَّ ، إِيَّاكُمْ وَالْكِبْرَ فَإِنَّ إِبْلِيسَ حَمَلَهُ الْكِبْرُ عَلَى أَنْ لَا يَسْجُدَ