حدیقۃ الصالحین — Page 605
605 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ انصار کا ایک آدمی نبی علی قیام کے پاس مانگنے آیا آپ نے فرمایا تمہارے گھر میں کوئی چیز نہیں۔اس نے کہا ہاں کیوں نہیں۔ایک کمبل ہے جس کا ایک حصہ ہم اور ہتے ہیں اور ایک بچھاتے دو در ہیں اور ایک بڑا پیالہ ہے جس سے ہم پانی پیتے ہیں۔فرمایا وہ دونوں میرے پاس لاؤ۔کہتے ہیں وہ آپ کے پاس لائے تو رسول اللہ صلی الیکم نے وہ اپنے ہاتھ میں لیے اور فرمایا یہ دونوں کون خریدے گا؟ ایک شخص نے کہا میں یہ ایک درہم میں خرید تاہوں۔آپ نے دو یا تین دفعہ فرمایا ایک درہم سے زیادہ کون بڑھاتا ہے ؟ ایک شخص نے کہا میں در ہم میں لیتا ہوں۔آپ نے اُسے وہ دے دیا اور دو در ہم لیے اور اس انصاری کو وہ دیئے اور فرمایا اس ایک سے اپنے گھر والوں کے لئے کھانا خرید لو اور دوسرے سے ایک کلہاڑا خرید و اور اسے میرے پاس لاؤ۔رسول اللہ صلی المیت کم نے اپنے ہاتھ سے اس میں دستہ ڈالا اور فرمایا جاؤ ایندھن جمع کرو اور بیچو اور میں تمہیں پندرہ دن تک نہ دیکھوں۔تو وہ آدمی لکڑیاں جمع کرنے اور بیچنے لگا اور جب آیا تو دس 10 درہم کما چکا تھا کچھ کے اس نے کپڑے خریدے کچھ کا اناج۔تو رسول اللہ صلی علیکم نے فرمایا یہ تمہارے لئے اس سے بہتر ہے کہ تم مانگو اور قیامت کے دن تمہارے چہرے پر داغ ہو۔مانگنا جائز نہیں سوائے تین آدمیوں کے ، ایسے فقر والے کے جو ہلاکت تک پہنچانے والا ہو یا ایسا قرض جو پریشان کرنے والا انتہائی سخت ہو۔یا تکلیف دہ خون والا ( یعنی جسے قتل دیت دینا ہو)۔771ـ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ العَوَامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ، فَيَأْتِ بِحُزْمَةِ الحَطَبِ عَلَى ظَهْرِهِ، فَيَبِيعَهَا، فَيَكُفَ اللَّهُ بِهَا وَجْهَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلُ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنْعُوهُ (بخاری کتاب الزكاة باب الاستعفاف عن المسالة 1471) رض حضرت زبیر سے روایت ہے کہ نبی صلی علیم نے فرمایا تم میں سے کوئی اپنی رسی لے اور اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا اُٹھا کر لائے اور پھر اُسے بیچے اور اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اس کی آبرو کو بچائے رکھے۔یہ بات اُس کے لئے بہتر ہے اس بات سے کہ وہ لوگوں سے مانگے ، وہ اس کو دیں یانہ دیں۔