حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 559 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 559

559 لَمْ أَجِدُ مَرْكَبًا قَبْلَ الَّذِي جِئْتُ فِيهِ، قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذَى عَنْكَ الَّذِي بَعَثْتَ فِي الحقبة، فَانْصَرِفُ بِالأَلْفِ الذِينَارِ رَاشِدًا (بخارى كتاب الكفالة باب الكفالة فى القرض والديون بالا بدان و غيرها 2291) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا کہ اس نے بنی اسرائیل میں سے کسی دوسرے شخص سے ایک ہزار اشرفیاں قرض مانگ میں تو اس نے کہا میرے پاس کوئی گواہ لے آؤ۔میں ان کو گواہ ٹھہراؤں (اور رقم دے دوں) تو اس نے کہا اللہ ہی کافی گواہ ہے۔اس نے کہا پھر (اپنا) کوئی ضامن پیش کرو۔اس نے کہا اللہ ہی کافی ضامن ہے۔اس نے کہا تم نے سچ کہا اور اُس کو ایک مقررہ میعاد کے لئے (اشرفیاں) دے دیں۔(جس نے قرض لیا تھا) اس نے سمندر کا سفر کیا اور اپنا کام سر انجام دیا اور اس کے بعد جہاز کی تلاش کی کہ جس پر وہ سوار ہو کر اس کے پاس اس میعاد پر پہنچے جو اس نے مقرر کی تھی۔مگر اس نے کوئی جہاز نہ پایا۔آخر اس نے ایک لکڑی لی اور اسے کریدا اور اس میں ایک ہزار اشرفیاں اور اپنا ایک خط اپنے دوست کے نام رکھ دیئے۔پھر اس کا منہ بند کر دیا اور پھر اسے لے کر سمندر پر آیا اور کہا اے میرے اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار اشرفیاں قرض لی تھیں اور اس نے مجھ سے ضامن مانگا تھا اور میں نے کہا تھا: اللہ تعالیٰ ہی کافی ضامن ہے اور وہ تیر انام سن کر راضی ہو گیا اور اُس نے مجھ سے گواہ مانگا تھا اور میں نے کہا تھا: اللہ ہی کافی گواہ ہے اور وہ تیر انام سن کر راضی ہو گیا تھا۔اور میں نے بہت کوشش کی کہ کوئی جہاز پاؤں کہ تا اس کا مال اس کو بھیج دوں مگر میں نہ کر سکا اور آب میں یہ مال تیرے سپر د کرتا ہوں۔یہ کہہ کر اُس نے وہ لکڑی سمندر میں ڈال دی، یہاں تک کہ وہ سمندر میں آگے چلی گئی۔پھر اس کے بعد وہ واپس (گھر کو لوٹا اور جہاز کی تلاش میں رہا۔تا اپنے ملک کو واپس آجائے۔وہ شخص جس نے اس کو قرض دیا ہوا تھا، ایک دن باہر نکلا کہ دیکھے شائد کوئی جہاز اس کا مال (روپیہ) لے کر آیا ہو تو اس کی نظر اس لکڑی پر پڑی جس کے اندر مال رکھا ہوا تھا۔وہ اسے اپنے گھر والوں کے لئے ایندھن سمجھ کر لے گیا۔جب اس نے اس کو چیر ا، اس میں مال اور خط پایا۔پھر کچھ مدت کے بعد وہ شخص بھی آپہنچا جس کو اس نے مال قرض دیا تھا۔وہ ایک ہزار دینار اپنے ساتھ لایا اور کہا اللہ کی قسم! میں نے جہاز کی انتہائی