حدیقۃ الصالحین — Page 557
557 وَسَلَّمَ، فَرَّدْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا جَنْدَلٍ بن سُبَيْلٍ يَوْمَيذٍ إِلَى أَبِيهِ سُهَيْل بن عمرو، وَلَمْ يَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلَّا رَذْهُ فِي تِلْكَ المُدَّةِ، وَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا ، وَجَاءَتِ المُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ، فَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ مِمَّنْ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ عَاتِقٌ، فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي المؤمِنَاتِ مَا أُنْزِل (بخاری کتاب المغازی باب غزوہ الحدیبیه (4180)۔عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے مروان بن حکم اور حضرت مسور بن مخرمہ سے سنا کہ وہ دونوں اس واقعہ کی خبر بیان کرتے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ حدیبیہ میں پیش آیا تھا۔عروہ نے ان دونوں سے روایت کرتے ہوئے مجھے جو بتایا اس میں یہ بھی تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حدیبیہ میں سہیل بن عمر و سے قضیہ معیادی کا صلح نامہ لکھوایا اور سہیل بن عمرو نے جو شر طیں کی تھیں ان میں سے اس نے یہ بھی کہا تھا: تمہارے پاس ہم میں سے جو کوئی جائے گا اور وہ تمہارے دین پر بھی ہو ا تو تم نے اسے ہماری طرف لوٹا دینا ہو گا اور ہمارے اور اس کے درمیان کوئی دخل نہیں دو گے۔سہیل نے انکار کر دیا کہ وہ رسول اللہ صلی علیم سے بغیر اس کے صلح کرے۔مومنوں نے اس شرط کو بُر امانا اور پیچ و تاب کھانے لگے اور اس کے متعلق باتیں کرنے لگے۔جب سہیل نے بغیر اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیصلہ کرنے سے قطعی انکار کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ شرط لکھنے کے لئے کہا اور رسول اللہ صلی ا ہم نے حضرت ابو جندل بن سہیل کو (جو مسلمان ہو چکے تھے ) انہی ایام میں ان کے باپ سہیل بن عمرو کے پاس لوٹا دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس جو مرد بھی ( قریش سے ) آتا تو آپ میعادی صلح کے دوران اسے واپس کر دیتے گو وہ مسلمان ہی ہوتا اور چند مومن عورتیں بھی ہجرت کر کے آئیں۔حضرت ام کلثوم بنت