حدیقۃ الصالحین — Page 516
516 حضرت جابر بن عبد اللہ (انصاری) رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو حضرت ابو بکڑ کے پاس حضرت علاء بن حضرمی (بحرین کے حاکم ) کی طرف سے مال آیا تو حضرت ابو بکر نے کہا جس کسی کا ہی علم کے ذمہ قرض ہو یا آپ نے اس سے کچھ وعدہ کیا ہو تو ہمارے پاس آئے۔حضرت جابر کہتے تھے میں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ مجھے اتنا اتنا اتنا مال دیں گے اور انہوں نے اپنے ہاتھوں کو پھیلا کر تین بار اس طرح فرمایا حضرت جابر کہتے تھے چنانچہ حضرت ابو بکڑ نے میرے ہاتھ میں پانچ سو پھر پانچ سو پھر پانچ سو گن کر دیئے۔653 - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةٌ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ فَلَمْ أَجِدُكَ ؟ قَالَ أَبِي: كَأَنَّهَا تَعْنِي الْمَوْتَ قَالَ فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ (مسلم کتاب فضائل الصحابه باب من فضائل ابى بكر الصديقه 4384) محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی للی کم سے کچھ مانگا۔آپ نے اسے پھر آنے کا فرمایا اس نے عرض کیا یارسول صلی علی کرم اللہ ! یہ بتائیں کہ اگر میں آئی اور آپ کو نہ پایا۔میرے والد نے کہا گویا اس کی مراد وفات سے تھی۔آپ نے فرمایا اگر تو مجھے نہ پائے تو ابو بکر کے پاس جانا۔