حدیقۃ الصالحین — Page 476
476 لا يحل لامرأة تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ أَنْ تَحِدَّ عَلَى مَيْتٍ فَوْقَ فَلَاتِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِ أَرْبَعَةَ أَهْبُرٍ وَعَشْرًا (بخاری کتاب الطلاق باب المتوفى عنها زوجها اربعة اشهر وعشر ا5334، 5335) حضرت زینب بنت ابی سلمہ بیان کرتی ہیں کہ میں حضرت ام المومنین ام حبیبہ کی خدمت میں حاضر ہوئی ان رض دنوں آپ کے والد حضرت ابو سفیان فوت ہوئے تھے حضرت ام حبیبہ نے میری موجودگی میں زردرنگ کی خوشبو منگوائی پہلے اپنی لونڈی کو لگائی پھر اپنا ہاتھ اپنے رخساروں پر ملا اور ساتھ ہی فرمایا خدا کی قسم ! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی خواہش نہیں مگر میں نے رسول اللہ صلی علیہ کمی سے سنا ہے آپ صلی ای ایم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا اللہ تعالٰی اور آخری دن پر ایمان لانے والی کسی عورت کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی مرنے والے کا سوگ کرے البتہ بیوی اپنے خاوند کے مرنے پر چار ماہ دس دن سوگ میں گزارتی ہے اس حدیث کی راویہ زینب کہتی ہیں کہ اس کے بعد میں ام المومنین حضرت زینب کی خدمت میں افسوس کے لئے حاضر ہوئی آپ صلی الی یوم کے بھائی فوت ہو گئے تھے میری موجودگی میں انہوں نے بھی خوشبو منگوا کر لگائی اور فرمایا مجھے خوشبو لگانے کی کوئی خواہش نہیں صرف رسول اللہ صلی علیم کے ارشاد کی تعمیل میں ایسا کر رہی ہوں آپ ملی پیام نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا تھا اللہ تعالی اور یوم آخر پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی مرنے والے کا تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اس بیوی کے جو اپنے خاوند کے مرنے پر چار ماہ دس دن سوگ میں رہتی ہے۔604 - عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ قَالَ هَلَكَتِ امْرَأَةٌ لِي، فَأَتَانِي مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبِ الْقُرَظِيُّ يُعَزِينِي بِهَا فَقَالَ إِنَّهُ كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ فَقِيهُ عَالِمٌ عَابِدٌ مُجْتَهِدٌ، وَكَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ۔وَكَانَ بِهَا مُعْجَبًا لَهَا مُحِبًا، فَمَاتَتْ فَوَجَدَ عَلَيْهَا وَجَدًا شَدِيدًا، وَلَقِيَ عَلَيْهَا أَسَفًا،