حدیقۃ الصالحین — Page 467
467 حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی العلیم نے فرمایا تم میں سے کوئی موت کی تمنانہ کیا کرے اگر وہ نیک ہے تو ہو سکتا ہے مزید نیکیاں کرنے کی اسے توفیق ملے اور اگر وہ گنہگار ہے تو ہو سکتا ہے کہ اسے تو بہ واستغفار کرنے کا موقع ملے۔588- عن أليس، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَعْمَلَينَ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ يفرٍ نَزِّلَ بِهِ، فَإِن كَانَ لَا بُدَّ مُتَمَنِيًا فَلْيَقُل: اللهم أخيبي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي (مسلم کتاب الذكر والدعاء باب كراهية تمنى الموت لضر نزل به 4826) حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا تم میں سے کوئی کسی تکلیف کے اترنے پر موت کی خواہش نہ کرے۔اگر اسے خواہش کئے بغیر کوئی چارہ نہیں تو یہ کہے اے اللہ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھیو جب تک زندگی میرے لئے بہتر ہے اور مجھے اس وقت وفات دینا جب وفات میرے لئے بہتر ہو۔تیمار داری اور عیادت 589ـ عَنِ البَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعَ : أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ المَرِيضِ ، وَاتَّبَاعِ الجِنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ العَاطِسِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَرَدِ السَّلامِ ، وَنَصْرِ المَظْلُومِ، وَإِبْرَارِ المُقْسِمِ۔(بخاری کتاب الادب باب تشميت العاطس اذا حمد الله 6222) حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ا یکم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم بیمار کی عیادت کریں، جنازے کے ساتھ جائیں، چھینک مارنے والے کی چھینک کا جواب دیں، اور دعوت کے لئے بلانے والے کی