حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 462 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 462

462 حضرت جابر کہتے ہیں میرے ایک ماموں بچھو کے کاٹے ) کا دم کرتے تھے۔رسول اللہ صلی الیم نے دم سے منع فرما دیا۔وہ کہتے ہیں وہ (ان کے ماموں) آپ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول صلی الیم اللہ ! آپ نے دم سے منع فرما دیا ہے اور میں بچھو کے کاٹے) کا دم کرتا ہوں۔اس پر آپ نے فرمایا جو تم میں سے اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو اُسے ایسا کرنا چاہیے۔581ـ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِي، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا فِي سَفَرٍ، فَمَرُوا بِحَيْ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَاسْتَضَافُوهُمْ فَلَمْ يُضِيفُوهُمْ، فَقَالُوا لَهُمْ: هَلْ فِيكُمْ رَاقٍ ؟ فَإِنَّ سَيْدَ الْحَي لَدِيغ أَوْ مُصَابٌ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: نَعَمْ، فَأَتَاهُ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَبَرَأَ الرَّجُلُ، فَأُعْطِيَ قَطِيعًا مِنْ غَلَمٍ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا، وَقَالَ حَتَّى أَذْكُرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ يَارَسُولَ اللهِ وَاللهِ مَا رَقَيْتُ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَتَبَسَّمَ وَقَالَ وَمَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟ ثُمَّ قَالَ خُذُوا مِنْهُمْ، وَاضْرِبُوا لِي بِسَهُم مَعَكُمْ (مسلم کتاب السلام باب جواز اخذ الاجرة على الرقية بالقرآن۔۔۔4066) حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیم کے کچھ صحابہ سفر میں تھے۔وہ عرب کے قبائل میں سے ایک قبیلہ کے پاس سے گزرے اور ان سے مہمان نوازی چاہی لیکن انہوں نے ان کی مہمان نوازی نہ کی۔انہوں نے ان سے پوچھا کیا تم میں سے کوئی دم کرنے والا ہے ؟ کیونکہ قبیلہ کے سردار کو کسی چیز ( بچھو وغیرہ) نے ڈس لیا ہے یا وہ بیمار ہے۔ان (صحابہ) میں سے ایک نے کہا ہاں۔وہ اس کے پاس گئے اور انہوں نے اسے سورۃ فاتحہ کا دم کیا۔تو وہ شخص تندرست ہو گیا تو اس کو بکریوں کا ایک ریوڑ دیا گیا لیکن اس (صحابی) نے اسے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں (پہلے) نبی صلی لیلم کے پاس اس کا ذکر کروں گا۔وہ نہیں ملی لیکم کے پاس آیا اور یہ بات بیان کی اور اس نے کہا یارسول اللہ! اللہ کی قسم میں نے صرف سورۃ فاتحہ کا دم کیا ہے۔ا