حدیقۃ الصالحین — Page 432
432 مجاہد نے بتایا کہ ابوہریرہ کہا کرتے تھے۔اس اللہ ہی کی قسم ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ میں بھوک کے مارے اپنے کلیجے کے سہارے زمین سے لگارہتا تھا اور کبھی تو بھوک کے مارے اپنے پیٹ پر پتھر بھی باندھ دیا کرتا تھا اور ایک دن میں لوگوں کے اس راستے پر بیٹھ گیا جس سے وہ نکلا کرتے تھے اتنے میں ابو بکر گزرے اور میں نے ان سے کتاب اللہ کی ایک آیت پوچھی۔میں نے ان سے اس لئے پوچھی تھی تا کہ وہ مجھے پیٹ بھر کر کھانا کھلا دیں مگر وہ گزر گئے اور انہوں نے ایسا نہ کیا۔پھر میرے پاس سے عمر گزرے میں نے ان سے کتاب اللہ کی ایک آیت پوچھی۔میں نے محض اس لئے پوچھی تھی تاکہ وہ مجھے پیٹ بھر کر کھانا کھلا دیں مگر وہ بھی گزر گئے۔انہوں نے ایسا نہ کیا۔پھر اس کے بعد ابو القاسم نبی صلی الیکم میرے پاس سے گزرے اور جب آپ نے مجھے دیکھا تو مسکرائے اور جو میرے نفس کی کیفیت تھی اور جو میرے چہرے کی حالت تھی سمجھ گئے اور آپ نے فرمایا ابوہریرہ ! میں نے کہا حاضر ہوں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا میرے پیچھے آجاؤ اور یہ کہہ کر چلے گئے اور میں آپ پیچھے پیچھے گیا۔آپ اندر گئے اور اجازت لے کر گئے اور مجھے بھی اجازت دی۔آپ جو اندر گئے تو دودھ کا پیالہ پایا۔آپ نے پوچھا۔یہ دودھ کہاں سے ہے ؟ گھر والوں نے کہا فلاں شخص نے یا کہا عورت نے آپ کو یہ ہدیہ بھیجا ہے۔آپ نے فرمایا ابوہریرہ! میں نے کہا حاضر ہوں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا اہل صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں میرے پاس بلا لاؤ۔کہتے تھے اور اہل صفہ مسلمانوں کے مہمان ہوتے نہ گھر بار تھا کہ وہاں جا کر آرام کرتے اور نہ کوئی ایسا تھا کہ جس کے پاس جاکر وہر ہے۔جب آپ کے پاس کوئی صدقہ آتا تو آپ ان کو بھیج دیتے اور خود اس میں سے کچھ نہ لیتے اور اس میں انہیں بھی شریک کرتے۔مجھے ان کا یہ بلانا بر الگا میں نے کہا اہل صفہ کے سامنے یہ اتنا سا دودھ کیا چیز ہے ؟ میں زیادہ حقدار تھا کہ میں اس دودھ سے کچھ پیتا کہ جس سے مجھ میں طاقت آتی اگر وہ آگئے تو آپ مجھے حکم دیں گے اور مجھے ان کو دینا ہو گا اور امید نہیں کہ اس دودھ سے مجھ تک کچھ پہنچے اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبر داری سے کچھ چارہ نہ تھا۔آخر میں ان کے پاس آیا اور ان کو بلا یا وہ چلے آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔آپ نے ان کو اجازت دی اور وہ گھر میں اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔آپ نے فرمایا ابوہریرہ! میں نے کہا حاضر ہوں یارسول اللہ ! فرمایا یہ لو اور ان کو دو۔کہتے تھے۔میں نے وہ پیالہ لیا اور ایک آدمی کو وہ دیتا اور وہ پیتا یہاں تک کہ