حدیقۃ الصالحین — Page 405
405 الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ ، وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ: آيبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبَّنَا حَامِدُونَ (مسلم کتاب الحج باب ما يقول اذا ركب الى سفر الحج وغيره2378) حضرت ابن عمرؓ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی علیکم جب سفر پر نکلتے ہوئے اپنے اونٹ پر بیٹھتے تو تین دفعہ اللہ اکبر کہتے۔پھر کہتے پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے لئے مسخر کیا اور ہم اس کو زیر نگیں کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور یقینا ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔(الزخرف : 14، 15 ) اے اللہ ! ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ اور ایسے عمل کی توفیق چاہتے ہیں جس سے تو راضی ہو جائے۔اے اللہ ! ہم پر ہمارا یہ سفر آسان کر دے اور اس کے فاصلہ کو (بسہولت) طے کرا دے۔اے اللہ ! سفر میں بھی تو ہی ساتھی ہے اور گھر میں بھی تو ہی جانشین۔اے اللہ ! میں سفر کی مشقت ، کسی اندوہناک منظر اور مال اور گھر کے لحاظ سے بُری واپسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جب واپس تشریف لاتے تو یہی الفاظ کہتے اور ان میں یہ اضافہ فرماتے ہم لوٹنے والے، تو بہ کرنے والے، عبادت کرنے والے اور اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔493۔سَمِعْتُ خَوْلَةٌ بِنْتَ حَكِيمِ السُّلَمِيَّةَ، تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا ثُمَّ قَالَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ، حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ (مسلم كتاب الذكر باب فى التعوذ من سوء القضاء ودرك الشفاء وغيره 4867) حضرت سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ میں نے حضرت خولہ بنت حکیم سلمی سے سنا وہ کہتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو کسی جگہ پر قیام کرے پھر یہ کہے کہ أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِ مَا خَلَقَ میں اللہ کے کامل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی تو کوئی چیز اسے نقصان نہیں دے گی یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے چلا جائے۔